Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Syed Ameer Ali's Photo'

سید امیر علی

1849 - 1928 | ہوگلی, انڈیا

بلند پایہ مورخ، بین الاقوامی شہرت یافتہ قانون دان اور کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق جج

بلند پایہ مورخ، بین الاقوامی شہرت یافتہ قانون دان اور کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق جج

سید امیر علی کا تعارف

اصلی نام : سید امیر علی

پیدائش : 06 Apr 1849 | ہوگلی, مغربی بنگال

وفات : 03 Aug 1928 | لندن, برطانیہ

شناخت: بلند پایہ مورخ، بین الاقوامی شہرت یافتہ قانون دان، کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق جج اور The Spirit of Islam کے مصنف

سید امیر علی 6 اپریل 1849ء کو چنسورہ، بنگال میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی، بعد ازاں ہگلی کالج سے بی اے اور ایم اے (تاریخ) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1873ء میں انگلستان سے بیرسٹری پاس کی، جس کے بعد قانون اور سیاست دونوں میدانوں میں ان کا غیر معمولی سفر شروع ہوا۔

1879ء میں انہوں نے سینٹرل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی، جو اس دور کی ایک اہم مسلم سیاسی و سماجی تنظیم تھی۔ وہ پچیس سال تک اس کے سیکرٹری رہے اور برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

1890ء میں سید امیر علی کلکتہ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور اس منصب پر فائز ہونے والے ممتاز ہندوستانی مسلم قانون دانوں میں شمار کیے گئے۔ بعد ازاں وہ بنگال لیجسلیٹو کونسل اور امپیریل کونسل کے رکن بھی رہے۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ وہ برطانیہ کی پریوی کونسل کے رکن نامزد ہونے والے پہلے ہندوستانی تھے۔

سید امیر علی نے اسلامی فکر، تاریخ اور قانون کی علمی و عقلی تعبیر میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مغرب میں اسلام کے خلاف اٹھائے جانے والے اعتراضات کا سائنسی، تنقیدی اور مدلل جواب دیا اور اسلام کی روح، تہذیب اور قانونی نظام کو جدید علمی اسلوب میں پیش کیا۔

ان کی شہرۂ آفاق تصنیف The Spirit of Islam اسلام کی روح، سیرتِ نبوی، اسلامی شریعت اور تہذیبی اقدار کی جامع ترجمانی ہے، جس نے مغربی علمی حلقوں میں گہرا اثر چھوڑا۔

ان کی دوسری اہم کتاب A Short History of the Saracens ہے، جس میں خلافتِ راشدہ، بنو امیہ اور بنو عباس کے ادوار کو سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی تناظر میں نہایت جامع انداز سے پیش کیا گیا ہے۔

اسلامی قانون کے میدان میں ان کی کتاب Mahommedan Law آج بھی ایک مستند قانونی حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ عورت کے اسلامی حقوق اور قانونی حیثیت پر بھی انہوں نے اہم تصانیف پیش کیں۔ انہوں نے فقہ حنفی کی مشہور کتاب 'ہدایہ' کا اردو ترجمہ بھی کیا۔

سید امیر علی نے اپنے علمی کام کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اسلام ایک انسان دوست، عادلانہ اور فکری اعتبار سے مضبوط مذہب ہے، اور مغربی دنیا میں اسلام کا مدلل تعارف کرانے والوں میں ان کا شمار نمایاں ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔

وفات: 3 اگست 1928ء کو لندن میں انتقال ہوا اور وہیں سپردِ خاک ہوئے۔

Recitation

بولیے