- کتاب فہرست 177110
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5834-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4850
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سید امیر علی کا تعارف
اصلی نام : سید امیر علی
پیدائش : 06 Apr 1849 | ہوگلی, مغربی بنگال
شناخت: بلند پایہ مورخ، بین الاقوامی شہرت یافتہ قانون دان، کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق جج اور The Spirit of Islam کے مصنف
سید امیر علی 6 اپریل 1849ء کو چنسورہ، بنگال میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی، بعد ازاں ہگلی کالج سے بی اے اور ایم اے (تاریخ) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1873ء میں انگلستان سے بیرسٹری پاس کی، جس کے بعد قانون اور سیاست دونوں میدانوں میں ان کا غیر معمولی سفر شروع ہوا۔
1879ء میں انہوں نے سینٹرل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی، جو اس دور کی ایک اہم مسلم سیاسی و سماجی تنظیم تھی۔ وہ پچیس سال تک اس کے سیکرٹری رہے اور برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
1890ء میں سید امیر علی کلکتہ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور اس منصب پر فائز ہونے والے ممتاز ہندوستانی مسلم قانون دانوں میں شمار کیے گئے۔ بعد ازاں وہ بنگال لیجسلیٹو کونسل اور امپیریل کونسل کے رکن بھی رہے۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ وہ برطانیہ کی پریوی کونسل کے رکن نامزد ہونے والے پہلے ہندوستانی تھے۔
سید امیر علی نے اسلامی فکر، تاریخ اور قانون کی علمی و عقلی تعبیر میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مغرب میں اسلام کے خلاف اٹھائے جانے والے اعتراضات کا سائنسی، تنقیدی اور مدلل جواب دیا اور اسلام کی روح، تہذیب اور قانونی نظام کو جدید علمی اسلوب میں پیش کیا۔
ان کی شہرۂ آفاق تصنیف The Spirit of Islam اسلام کی روح، سیرتِ نبوی، اسلامی شریعت اور تہذیبی اقدار کی جامع ترجمانی ہے، جس نے مغربی علمی حلقوں میں گہرا اثر چھوڑا۔
ان کی دوسری اہم کتاب A Short History of the Saracens ہے، جس میں خلافتِ راشدہ، بنو امیہ اور بنو عباس کے ادوار کو سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی تناظر میں نہایت جامع انداز سے پیش کیا گیا ہے۔
اسلامی قانون کے میدان میں ان کی کتاب Mahommedan Law آج بھی ایک مستند قانونی حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ عورت کے اسلامی حقوق اور قانونی حیثیت پر بھی انہوں نے اہم تصانیف پیش کیں۔ انہوں نے فقہ حنفی کی مشہور کتاب 'ہدایہ' کا اردو ترجمہ بھی کیا۔
سید امیر علی نے اپنے علمی کام کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اسلام ایک انسان دوست، عادلانہ اور فکری اعتبار سے مضبوط مذہب ہے، اور مغربی دنیا میں اسلام کا مدلل تعارف کرانے والوں میں ان کا شمار نمایاں ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔
وفات: 3 اگست 1928ء کو لندن میں انتقال ہوا اور وہیں سپردِ خاک ہوئے۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Syed_Ameer_Ali
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
