- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3299طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط747
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4325 سیاسی354 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سید حسام الدین راشدی کا تعارف
پیرحسام الدین راشدی پاکستان کے نامور محقق، ادیب اور دانشور پیرحسام الدین راشدی 20 ستمبر 1911ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مولوی محمد سومار اور مولوی محمد الباس پنہور سے حاصل کی۔ چوتھے درجے تک پڑھنے کے بعد ذوق مطالعہ کو اپنا رہبر بنایا اور ذوق کتب خوانی اور اخبارات نے ان پر علم کے دروازے کھول دیئے۔ شروع میں انہوں نے صحافت کو ذریعہ معاش بنایا۔ وہ کئی اخبارات سے منسلک رہے مگروہ جلد ہی صحافت سے منہ موڑ کر ذوق مطالعہ کی تسکین میں محو ہوگئے اور نادر و نایاب مخطوطات اور مطبوعہ نسخوں کو جمع کرکے ان کا مطالعہ کرنے کا مشغلہ اختیار کیا۔ سندھ پر ان کا احسان عظیم یہ ہے کہ انہوں نے سندھ کے اکثر فارسی مخطوطوں اورسندھ کی تاریخ کو مدون کیا اور اس طرح انہیں محفوظ کردیا۔ ان کے حواشی کو معلومات اور تحقیق کی انسائیکلوپیڈیا کہا جاسکتا ہے۔ مقالات الشعرا، تکملہ مقالات الشعرا، تحفۃ الکرام، مکلی نامہ اور مظہر شاہجہانی ان کی مدون کی گئی وہ کتابیں ہیں جن پر مفید حواشی لکھ کر انہوں نے تاریخ سندھ کی بہت سی گتھیوں کو سلجھایا ہے۔ ان کی علمی اور تاریخی خدمات کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اتنا کام کیا ہے جو ایک ادارے کے انجام دینے کا تھا۔ ٭یکم اپریل 1982ء کو پیرحسام الدین راشدی اپنے خالق حقیقی جاملے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
