- کتاب فہرست 180561
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1575 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4191خواتین کی تحریریں5754-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سید کلیم اللہ حسینی کا تعارف
شناخت: فارسی کے استاد، ماہرِ تجوید و قراءت اور ماہر عروض
سید کلیم اللہ حسینی دسمبر 1904ء میں حیدرآباد دکن کے بازار نور خان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے گھر پر حاصل کی۔ 1919ء میں عثمانیہ کالج کے قیام کے ساتھ ہی وہاں داخلہ لیا اور فارسی، اردو اور معاشیات کے ساتھ انٹرمیڈیٹ کیا۔ 1923ء میں اسی ادارے سے بی اے مکمل کیا، جبکہ 1925ء میں بی اے فارسی اور ایل ایل بی دونوں کی ڈگریاں حاصل کیں۔
تعلیم کے بعد دو برس محکمۂ عدالت میں منصفی کے فرائض انجام دیے، پھر عثمانیہ کالج میں فارسی و اردو کے لکچرر مقرر ہوئے۔ 1928ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن روانہ ہوئے اور 1930ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ واپسی پر جامعہ عثمانیہ میں دوبارہ تدریسی ذمہ داریاں سنبھالیں اور 1958ء تک فارسی کے پروفیسر اور صدرِ شعبہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی سال وظیفۂ حسنِ خدمت پر سبکدوش ہوئے۔ بعد ازاں 1965ء میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، دہلی کی جانب سے پروفیسر مقرر ہوئے اور تین سال تک اس منصب پر فائز رہے۔
انہوں نے ادارۂ دارالقرات والدینیات الکلیمیہ قائم کیا، جہاں آخر عمر تک تجوید و قراءت کی تعلیم دیتے رہے۔ وہ سبعہ عشرہ کے قاری تھے اور فنِ تجوید و قراءت میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔
تجوید پر ان کی اہم تصانیف میں: گلدستۂ قرآن و حدیث، سہل قواعدِ تجوید، سہل تجوید شامل ہیں۔
اس کے علاوہ عروض، بلاغت، فارسی ادب اور سیرت پر بھی انہوں نے متعدد کتابیں لکھیں، جن میں: سراج البلاغت، عروض، اسوۂ حسنہ، فارسی شاعری کا آغاز اور اس کی تاریخ خودنوشت سوانح حیات خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے سعدی کی گلستان کا اردو ترجمہ بھی کیا۔
وفات: 23 اگست 1992ء کو انتقال ہوا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
