Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

سید کلیم اللہ حسینی

1904 - 1992 | حیدر آباد, انڈیا

ماہرِ تجوید و قرات اور عروض

ماہرِ تجوید و قرات اور عروض

سید کلیم اللہ حسینی کا تعارف

اصلی نام : کلیم اللہ

پیدائش :حیدر آباد, تلنگانہ

وفات : 23 Aug 1992 | حیدر آباد, تلنگانہ

شناخت: فارسی کے استاد، ماہرِ تجوید و قراءت اور ماہر عروض

سید کلیم اللہ حسینی دسمبر 1904ء میں حیدرآباد دکن کے بازار نور خان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے گھر پر حاصل کی۔ 1919ء میں عثمانیہ کالج کے قیام کے ساتھ ہی وہاں داخلہ لیا اور فارسی، اردو اور معاشیات کے ساتھ انٹرمیڈیٹ کیا۔ 1923ء میں اسی ادارے سے بی اے مکمل کیا، جبکہ 1925ء میں بی اے فارسی اور ایل ایل بی دونوں کی ڈگریاں حاصل کیں۔

تعلیم کے بعد دو برس محکمۂ عدالت میں منصفی کے فرائض انجام دیے، پھر عثمانیہ کالج میں فارسی و اردو کے لکچرر مقرر ہوئے۔ 1928ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن روانہ ہوئے اور 1930ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ واپسی پر جامعہ عثمانیہ میں دوبارہ تدریسی ذمہ داریاں سنبھالیں اور 1958ء تک فارسی کے پروفیسر اور صدرِ شعبہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی سال وظیفۂ حسنِ خدمت پر سبکدوش ہوئے۔ بعد ازاں 1965ء میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، دہلی کی جانب سے پروفیسر مقرر ہوئے اور تین سال تک اس منصب پر فائز رہے۔

انہوں نے ادارۂ دارالقرات والدینیات الکلیمیہ قائم کیا، جہاں آخر عمر تک تجوید و قراءت کی تعلیم دیتے رہے۔ وہ سبعہ عشرہ کے قاری تھے اور فنِ تجوید و قراءت میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔

تجوید پر ان کی اہم تصانیف میں: گلدستۂ قرآن و حدیث، سہل قواعدِ تجوید، سہل تجوید شامل ہیں۔

اس کے علاوہ عروض، بلاغت، فارسی ادب اور سیرت پر بھی انہوں نے متعدد کتابیں لکھیں، جن میں: سراج البلاغت، عروض، اسوۂ حسنہ، فارسی شاعری کا آغاز اور اس کی تاریخ خودنوشت سوانح حیات خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے سعدی کی گلستان کا اردو ترجمہ بھی کیا۔

وفات: 23 اگست 1992ء کو انتقال ہوا۔

Recitation

بولیے