- کتاب فہرست 180581
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4195خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سید خالد محمود کا تعارف
پیدائش : 17 Dec 1943 | لکھنؤ, اتر پردیش
وفات : 17 Dec 2018 | بہرائچ, اتر پردیش
رشتہ داروں : طاہر محمود (بھائی)
سید خالد محمود کی ولادت۱۷؍دسمبر ۱۹۴۳ءمطابق ۱۶؍محرم۱۳۶۵ھ کو لکھنؤ میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام سید محمود حسن وکیل صاحب اور والدہ کا نام محترمہ بیگم منور جہاں صاحبہ تھا- محمود صاحب علی گڑھ کی تہذیب سے مزین اعلی تعلیم سے آراستہ قابل باپ کی تربیت سے سرفراز ایک باوقار و ادب شناس شخصیت کا نام ہے-آپ کے والد محترم سید محمود حسن صاحب شہر بہرائچ کے مشہور و معروف وکیل ہونے کے ساتھ عربی فارسی اور انگریزی زبانوں پرخاص دسترس حاصل تھی-خالد صاحب تربھون یونیورسٹی کاٹھمانڈو نیپال میں باٹنی کے پروفیسر تھے۔
خالدصاحب بیک وقت مضمون نگارمقالہ نگار سپاسنامہ اورتبصرہ نگار تھے۔ آپ نے استقبالیے اور تہنیت نامے بھی لکھے تھے۔اردو محفل بہرائچ کے سرپرست تھے۔
آپ کی کئی کتابیں شائع ہوئی کچھ کتابوں کے نام اس طرح سے ہیں:۔
نثری کاوش، نثری زاویے، نثری جہتیں ، نثری خوشے قابل ذکر ہیں جو آپ کے مقالات، مضامین کے مجموعے ہیں۔
سید خالد محمود کی وفات ۱۷؍ دسمبر ۲۰۱۸ءکو ۷۶ویں سال گرہ پر طویل علالت کے بعد لکھنؤ کے ایک اسپتال میں ہوئی۔آپ کی نماز جنازہ بعد نماز مغرب جامع مسجد شہر بہرائچ میں ہوئی اور تدفین احاطہ سید بڈھن بہرائچی ؒمیں واقع آبائی قبرستان میں ہوئی۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
