- کتاب فہرست 179635
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2064نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4868
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
سید خالد محمود کا تعارف
پیدائش : 17 Dec 1943 | لکھنؤ, اتر پردیش
وفات : 17 Dec 2018 | بہرائج, اتر پردیش
رشتہ داروں : طاہر محمود (بھائی)
سید خالد محمود کی ولادت۱۷؍دسمبر ۱۹۴۳ءمطابق ۱۶؍محرم۱۳۶۵ھ کو لکھنؤ میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام سید محمود حسن وکیل صاحب اور والدہ کا نام محترمہ بیگم منور جہاں صاحبہ تھا- محمود صاحب علی گڑھ کی تہذیب سے مزین اعلی تعلیم سے آراستہ قابل باپ کی تربیت سے سرفراز ایک باوقار و ادب شناس شخصیت کا نام ہے-آپ کے والد محترم سید محمود حسن صاحب شہر بہرائچ کے مشہور و معروف وکیل ہونے کے ساتھ عربی فارسی اور انگریزی زبانوں پرخاص دسترس حاصل تھی-خالد صاحب تربھون یونیورسٹی کاٹھمانڈو نیپال میں باٹنی کے پروفیسر تھے۔
خالدصاحب بیک وقت مضمون نگارمقالہ نگار سپاسنامہ اورتبصرہ نگار تھے۔ آپ نے استقبالیے اور تہنیت نامے بھی لکھے تھے۔اردو محفل بہرائچ کے سرپرست تھے۔
آپ کی کئی کتابیں شائع ہوئی کچھ کتابوں کے نام اس طرح سے ہیں:۔
نثری کاوش، نثری زاویے، نثری جہتیں ، نثری خوشے قابل ذکر ہیں جو آپ کے مقالات، مضامین کے مجموعے ہیں۔
سید خالد محمود کی وفات ۱۷؍ دسمبر ۲۰۱۸ءکو ۷۶ویں سال گرہ پر طویل علالت کے بعد لکھنؤ کے ایک اسپتال میں ہوئی۔آپ کی نماز جنازہ بعد نماز مغرب جامع مسجد شہر بہرائچ میں ہوئی اور تدفین احاطہ سید بڈھن بہرائچی ؒمیں واقع آبائی قبرستان میں ہوئی۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
