- کتاب فہرست 181565
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1385 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1706 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6596افسانہ2679 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4866
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سید محمد اشرف کا تعارف
افسانوی جگت میں سید محمد اشرف کا قد معاصر افسانہ نگاروں میں اس لئے نمایاں ہے کہ انہوں نے روایت سے الگ افسانے کے بیانیہ اور اس کے کینوس کو نئی وسعت دینے میں جو بھی تجربے کیے تسلیم ہوئے۔ ان کا مشہور افسانوی مجموعہ ’’ڈار سے بچھڑے‘‘ 1994 میں چھپ کر سامنے آیا، جن میں موجود بیشتر کہانیوں نے معاصرین کو متوجہ کیا اور یہ مجموعہ نئی نسل کے لئے وسیلہ ترغیب ثابت ہوا۔ لکڑبگھا کو ایک علامتی کردا بناکر ’’لکڑبگھا رویا، لکڑبگھا ہنسا، لکڑبگھا چپ ہو گیا‘‘ جیسی کہانیاں لکھیں ۔ دوسرا افسانوی مجموعہ ’’باد صبا کا انتظار‘‘ 2000 ء میں شائع ہوا، 2003 میں اسے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ حاصل ہوا۔ نہ صرف افسانے بلکہ سید محمد اشرف نے کئی ناول بھی لکھے اور تقریباً سبھی پسند کیے گئے۔ ناول ’’نمبردار کا نیلا‘‘ کو بڑی شہرت ملی کہ اس ناول میں مرکزی کردار کے طور پر چار پاؤں والے جانور (بھینسے) کو منتخب کیا گیا ہے۔ پوری کہانی اسی بھینسے ’’نیلا‘‘ کے گرد گھومتی ہے جو علاقے میں موجود نمبردار کا ہے۔ اسی طرح ’’مردار خور‘‘ اور دوسرے ناول مثلاً ’’ایک قصہ سنو، آخری سواری، میرا من‘‘ سبھی ناول پڑھے گئے اور پسند کیے گئے۔ شعر و شاعری محض تفنن طبع کی خاطر کی اور اس جانب کبھی ان کی بہت خاص توجہ نہیں رہی۔ ان کی کئی کہانیاں ملک کے متعدد کالجوں اور جامعات کے نصاب میں داخل ہیں۔ سید محمد اشرف کی پیدائش مارہرا شریف، ضلع ایٹہ میں 1957 کو ہوئی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن اور پھر1981 میں اردو میں ایم اے کے امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کیے۔ اسی سال ملک میں پہلی بار کمیشن کا امتحان اپنی مادری زبان اردو میں دیا اور محکمہ محصولات میں انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے، 1990 میں جوائنٹ کمیشنر کے عہدے پر فائز ہوئے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
