Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

سید محمد میاں

1903 - 1975 | دلی, انڈیا

سوانح نگار، مجاہدِ آزادی، اپنی کتاب 'علماء ہند کا شاندار ماضی' سے مشہور

سوانح نگار، مجاہدِ آزادی، اپنی کتاب 'علماء ہند کا شاندار ماضی' سے مشہور

سید محمد میاں کا تعارف

پیدائش : 04 Oct 1903 | بلند شہر, اتر پردیش

وفات : 22 Oct 1975 | دلی, انڈیا

شناخت: مؤرخ، سوانح نگار، مجاہدِ آزادی، مصنف و مدرّس، جمعیت علمائے ہند کے ناظم اور "مورخِ ملت"

مولانا سیّد محمد میاں دیوبندی برصغیر کے اُن ممتاز علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم و عمل، تاریخ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ وہ ایک بلند پایہ مؤرخ، دقیق نظر محقق اور صاحبِ اسلوب ادیب تھے، جنہوں نے اسلامی تاریخ اور تحریکِ آزادی کے مختلف پہلوؤں کو نہایت مستند اور مدلل انداز میں قلم بند کیا۔

مولانا کی ولادت 12 رجب 1321ھ / 4 اکتوبر 1903ء کو ضلع بلندشہر میں ہوئی، جہاں ان کے والد سیّد منظور محمد محکمہ نہر میں ملازم تھے۔ ابتدائی تعلیم مظفرنگر میں حاصل کی، بعد ازاں دارالعلوم دیوبند میں 1912ء سے 1925ء تک زیرِ تعلیم رہے اور دینی علوم کی تکمیل کی۔ اس دوران انہیں شیخ الادب مولانا محمد اعزاز علی امروہوی، علامہ محمد ابراہیم بلیاوی اور علامہ انور شاہ کشمیری جیسے جلیل القدر اساتذہ سے استفادہ کا موقع ملا۔

فراغت کے بعد 1926ء میں مدرسہ حنفیہ شاہ آباد میں تدریس کا آغاز کیا، تاہم سرکاری تعاون کے باعث اسے ترک کر دیا اور بعد میں مدرسہ شاہی مرادآباد سے وابستہ ہو کر علیا کی کتب پڑھائیں۔

1929ء میں جمعیت علمائے ہند کی تحریکِ آزادی اور سول نافرمانی میں سرگرم حصہ لیا۔ اس جدوجہد کے دوران متعدد بار گرفتار ہوئے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ 1945ء میں جمعیت علمائے ہند کے ناظم مقرر ہوئے اور دہلی میں قیام اختیار کیا۔ اس حیثیت سے انہوں نے تنظیمی، ملی اور سیاسی سطح پر نمایاں خدمات انجام دیں۔ بھاگلپور اور بھوپال کے فسادات کے دوران ان کی خدمات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

1963ء میں جمعیت کی نظامت سے سبکدوش ہونے کے بعد انہوں نے دوبارہ تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور مدرسہ امینیہ کشمیری گیٹ دہلی میں حدیث شریف کی تدریس، افتاء اور علمی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا، جو ان کی وفات تک قائم رہا۔

مولانا سیّد محمد میاں دیوبندی کی علمی خدمات نہایت وسیع ہیں۔ ان کی متعدد کتابیں نصاب میں شامل ہیں، جن میں "دینی تعلیم کے رسائل" (بارہ حصے)، "تاریخ اسلام"، "ہمارے پیغمبر"، "روزہ و زکوٰۃ" اور "مشکوٰۃ الآثار" شامل ہیں۔

ان کی مایہ ناز تصانیف میں "سیرت محمد رسول اللہ "، "حیات شیخ الاسلام"، "اسیرانِ مالٹا"، "تحریک شیخ الہند"، "عہد زریں"، "جمہوریت اپنے آئینے میں"، "صالح جمہوریت"، اور "سیاسی و اقتصادی مسائل اور اسلامی تعلیمات" جیسی اہم کتب شامل ہیں۔ فقہ میں ان کی تصنیف "نور الاصباح" (شرح نور الایضاح) کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جبکہ "مسئلہ تعلیم اور طریقۂ تعلیم" تدریسی اصولوں پر ایک اہم کتاب ہے۔

ان کی سوانحی تصانیف میں "سیرت محمد رسول اللہ " کو خاص امتیاز حاصل ہے، جسے وہ اپنی زندگی کا شاہکار قرار دیتے تھے۔ اسی طرح "علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے" اور "اسیرانِ مالٹا" بھی اہم تاریخی و سوانحی ماخذ ہیں۔

ان کی سب سے اہم اور شہرۂ آفاق تصنیف "علمائے ہند کا شان دار ماضی" ہے، جو چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے مجدد الف ثانی سے لے کر 1857ء کی جنگ آزادی اور اس کے بعد کے حالات تک برصغیر کے علماء کی دینی، سیاسی اور اصلاحی خدمات کو مفصل انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت نے اسے ضبط کر لیا اور مصنف کو بھی گرفتار کیا گیا۔

مولانا کی تحریروں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ محض تاریخ بیان نہیں کرتے بلکہ اس کا تجزیہ، تقابل اور فکری رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے ہزاروں علماء، مجاہدین اور گمنام شخصیات کے حالات محفوظ کر کے تاریخ کے ایک اہم خلا کو پُر کیا۔

وفات: مولانا سیّد محمد میاں دیوبندی کا انتقال 16 شوال 1395ھ / 22 اکتوبر 1975ء کو دہلی میں ہوا اور وہیں مدفون ہیں۔

Recitation

بولیے