- کتاب فہرست 179643
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2064نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4868
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
سید محمد مرتضیٰ کا تعارف
بیانؔ و یزدانیؔ۔ نام سید محمد مرتضی تھا و صاحب مراۃ الشعرا نے محمد تقی غلط لکھا ہے ،والد کا نام میر گوہر علی 1850 میں (بقول صاحب مراۃ الشعرا 1846 اور بقول صاحب قاموس المشاہیر 1840میں بمقام نگینہ ضلع بجنور پیدا ہوئے۔ سید احمد حسن فرقانی کے شاگرد تھے۔اردو میں بیانؔ اور فارسی میں یزدانی تخلص کرتے تھے۔بہت اچھے نغز گو شاعرتھے۔مگر کلام کا کوئی مجموعہ نہ ان کی زندگی میں چھپا نہ بعد میں مختلف اخباروں اور رسالوں میں اپنی غزلیں اور نظمیں چھپواتے رہتے تھے۔ایک ماہوار گلدستہ لسان الملک کے نام سے خود بھی جاری کیا تھا۔طوطی ہند کے بھی ایڈیٹر رہے ۔اردو کے علاوہ عربی اور فارسی کی خاصی لیاقت رکھتے تھے ۔صاحب مراۃ الشعرا ان کے حال میں لکھتے ہیں کہ ’’ہمیشہ اندھیری کوٹھہری میر پڑے رہتے تھے ۔صفائی کا مطلق خیال نہ تھا ۔ہر وقت ایک لحاف اوڑھے رہتے تھے ۔خواہ کوئی موسم ہو گدی پر کچھ بوجھ رکھا رہتا تھا ۔باہر کبھی آتے جاتے نہ تھے ،پلنگ پر ہی کبھی کبھی نہا لیتے تھے ۔محض شاعر تھے اور کسی کام کے نہ تھے۔‘‘ ان کا انتقال لاہور میں 22 اپریل 1928 دق کے سبب ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
