- کتاب فہرست 180518
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1584 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب970 تحریکات267 ناول4270 سیاسی350 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4872
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سید محمد مرتضیٰ کا تعارف
بیانؔ و یزدانیؔ۔ نام سید محمد مرتضی تھا و صاحب مراۃ الشعرا نے محمد تقی غلط لکھا ہے ،والد کا نام میر گوہر علی 1850 میں (بقول صاحب مراۃ الشعرا 1846 اور بقول صاحب قاموس المشاہیر 1840میں بمقام نگینہ ضلع بجنور پیدا ہوئے۔ سید احمد حسن فرقانی کے شاگرد تھے۔اردو میں بیانؔ اور فارسی میں یزدانی تخلص کرتے تھے۔بہت اچھے نغز گو شاعرتھے۔مگر کلام کا کوئی مجموعہ نہ ان کی زندگی میں چھپا نہ بعد میں مختلف اخباروں اور رسالوں میں اپنی غزلیں اور نظمیں چھپواتے رہتے تھے۔ایک ماہوار گلدستہ لسان الملک کے نام سے خود بھی جاری کیا تھا۔طوطی ہند کے بھی ایڈیٹر رہے ۔اردو کے علاوہ عربی اور فارسی کی خاصی لیاقت رکھتے تھے ۔صاحب مراۃ الشعرا ان کے حال میں لکھتے ہیں کہ ’’ہمیشہ اندھیری کوٹھہری میر پڑے رہتے تھے ۔صفائی کا مطلق خیال نہ تھا ۔ہر وقت ایک لحاف اوڑھے رہتے تھے ۔خواہ کوئی موسم ہو گدی پر کچھ بوجھ رکھا رہتا تھا ۔باہر کبھی آتے جاتے نہ تھے ،پلنگ پر ہی کبھی کبھی نہا لیتے تھے ۔محض شاعر تھے اور کسی کام کے نہ تھے۔‘‘ ان کا انتقال لاہور میں 22 اپریل 1928 دق کے سبب ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
