- کتاب فہرست 180623
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1982
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1368 قصہ / داستان1599 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح594 صحافت200 زبان و ادب1570
خطوط727 طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4276 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6539افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2008نصابی کتاب424 ترجمہ4191-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1253
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1260
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت589
- نظم1205
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ75
- واسوخت24
سید رفیق مارہروی کا تعارف
سیّد رفیق مارہروی 1908 میں ضلع ایٹہ کے مشہور قصبہ مارہرہ میں پیدا ہوئے، وہ مشہور شاعر احسن مارہروی کے بیٹے تھے۔ رفیق مارہروی نے اُردو زبان و ادب کی گراں قدر خدمات انجام دیں جس میں ہندوؤں میں اُردو، بزمِ داغ، زبانِ داغ، چُپ کی داد و فریاد، قِصّہ گل و صنوبر وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اپنے والد احسن مارہروی کی سوانح حیات اور کلام کا مجموعہ جلوہ احسن کے نام سے شائع کرایا۔ سیّد رفیق مارہروی کے علمی و ادبی مضامین ملک کے مشہور رسائل و جرائد میں شائع ہوئے ہیں، فصیح الملک مرزا داغ دہلوی پر اُنکا کام بڑی قدر و منزلت کا حامل ہے، اُنکا ایک مضمون اگست 1948 میں بہ عنوان "مرزا داغ اور منی بائی حجاب" رسالہ نگار میں چھپا جو کہ مرزا داغ کی رنگین مزاجی اور منی بائی نامی طوائف سے اُنکے عشق کی پوری تصویر کھینچتا ہے، اس مضمون کو اہلِ نظر نے خوب سراہا اور بے حد مقبول ہوا۔ کتاب ہندوؤں میں اُردو اُنکا بڑا کارنامہ ہے جس میں اس امر کو آشکار کیا گیا ہے کہ اُردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے بلکہ ہندوئوں نے مسلمانوں کے دوش بدوش اس زبان کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس میں تقریباً 200 ہندو شعراء کے کلام اور حالاتِ زندگی یکجا کیے گئے ہیں۔1967 میں بدایوں میں انتقال کیا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1982
-
