- کتاب فہرست 180695
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1141
خطوط724 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4275 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6695افسانہ2671 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4185-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1263
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ386
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
سید تحسین گیلانی کے افسانچے
دیمک
خیال نے جست لگائی اور ہمارے دهیان سے نکل کر ہمارے سامنے مجسم ہو گیا ۔ مجهے لگا میں خالی ہو گیا !! پاگل ہو ۔۔۔ اتنی شدت اچهی نہیں ہوتی!! جتنا رلانا ہے ایک ہی بار رلا دیں۔ یوں کریں۔۔۔ مجهے لفظوں کی دیوار میں چنوا دیں۔ لیکن یہ سناٹے اور خاموشیوں کی چیخوں
فیصلہ
ایک گھنٹے کو گزرے پورا ایک گھنٹہ ہو چکا تھا اور پورے ایک گھنٹے سے وہ اس منظر کو تکے جا رہا تھا ۔ وہ منظر جو سامنے تھا ، کالے گہرے بادلوں سے گرتا کالا رس اور زمین پر جل تھل کالا سیال بہتا منظر ! وہاں کوئی ذی روح نہیں تھا ، ہاں وہاں سناٹا تها جو اس منظر
ظہور
مجھے آج خود میں قید ہوئے سات سو برس ہو چکے تھے ۔ میں کسی پر آشکار نہ ہو سکا خود پر بھی نہیں ۔ میرے اندر وہ کون تھا جو مجھے سہارا دیے ہوئے تھا مجھے زندہ رکھے ہوئے تھا ۔لیکن کیا میں واقعی کہیں تھا یا مجھ میں واقعی کوئی تھا ؟؟ ایسے کئی سوال برسوں سے مجھ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
