- کتاب فہرست 185962
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
ادب اطفال1924
طب888 تحریکات293 ناول4433 -
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی11
- اشاریہ5
- اشعار64
- دیوان1439
- دوہا64
- رزمیہ105
- شرح182
- گیت83
- غزل1122
- ہائیکو12
- حمد44
- مزاحیہ36
- انتخاب1548
- کہہ مکرنی6
- کلیات676
- ماہیہ19
- مجموعہ4882
- مرثیہ376
- مثنوی820
- مسدس57
- نعت541
- نظم1205
- دیگر68
- پہیلی16
- قصیدہ183
- قوالی19
- قطعہ61
- رباعی290
- مخمس17
- ریختی12
- باقیات27
- سلام33
- سہرا9
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ13
- تاریخ گوئی28
- ترجمہ73
- واسوخت26
سید وحیدالدین سلیم کے اقوال
عورتوں کا بناؤ سنگھار اور زینت و آرائش کا جو شوق ہے، وہ ان کے لیے ان کی بہت سی بیماریوں کا قدرتی علاج ہے اور کسی عورت کو اس شوق کے پورا کرنے سے باز رکھنا نامناسب اور ان کے حق میں نہایت مضر ہے۔
ہمارے نزدیک صوبہ جاتِ متحدہ کی عام زبان ہندوستانی ہے اور اس کی دو ممتاز شکلیں ہیں، جن کا نام اردو اور ہندی ہے۔
بلاغت کے معنی یہ ہیں کہ کم سے کم الفاظ سے زیادہ سے زیادہ معنی سمجھے جائیں۔ یہ بات جس قدر تلمیحات میں پائی جاتی ہے، الفاظ کی دیگر اقسام میں نہیں پائی جاتی۔ جس زبان میں تلمیحات کم ہیں یا بالکل نہیں ہیں، وہ بلاغت کے درجے سے گری ہوئی ہے۔
ہمارے شعرا جب غزل لکھنے بیٹھتے ہیں تو پہلے اس غزل کے لیے بہت سے قافیے جمع کرکے ایک جگہ لکھ لیتے ہیں، پھر ایک قافیہ کو پکڑ کر اس پر شعر تیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ قافیہ جس خیال کے ادا کرنے پر مجبور کرتا ہے اسی خیال کو ادا کر دیتے ہیں۔ پھر دوسرے قافیہ کو لیتے ہیں، یہ دوسرا قافیہ بھی جس خیال کے ادا کرنے کا تقاضا کرتاہے اسی خیال کو ظاہر کرتے ہیں، چاہے یہ خیال پہلے خیال کے برخلاف ہو۔ اگر ہماری غزل کے مضامین کا ترجمہ دنیا کی کسی ترقی یافتہ زبان میں کیا جائے، جس میں غیر مسلسل نظم کا پتہ نہیں ہے تو اس زبان کے بولنے والے نو دس شعر کی غزل میں ہمارے شاعر کے اس اختلاف خیال کو دیکھ کر حیران رہ جائیں۔ ان کو اس بات پر اور بھی تعجب ہوگا کہ ایک شعر میں جو مضمون ادا کیا گیا ہے، اس کے ٹھیک برخلاف دوسرے شعر کا مضمون ہے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ شاعر کا اصلی خیال کیا ہے۔ وہ پہلے خیال کو مانتا ہے یادوسرے خیال کو۔ اس کی قلبی صدا پہلے شعر میں ہے یا دوسرے شعر میں۔
اقبال کا فارسی انداز بیان اختیار کرنا اردو زبان کے لیے سراسر بدقسمتی ہے مگر وہ اپنی مصلحت کو خود ہی بہتر جانتے ہیں۔
سچی شاعری سے جس کی بنیاد حقیقت اور واقعیت پر رکھی جاتی ہے اور جس میں اخلاق کے مفید پہلو دکھائے جاتے ہیں اور مضر اور ناپاک جذبات کا خاکہ اڑایا جاتا ہے، دنیا میں نہایت اعلیٰ درجہ کی اصلاح ہوتی ہے اور اس سے سوسائٹی کی حالت دن بدن ترقی کرتی ہے اور قوم اور ملک کو فائدہ پہنچتا ہے برخلاف اس کے جو شاعر مبالغوں اور فضول گوئیوں اور نفس کی بے جا امنگوں کے اظہار میں مشغول رہتے ہیں، وہ دنیا کے لیے نہایت خوفناک درندے ہیں۔ وہ لوگوں کو شہد میں زہر ملاکر چٹاتے ہیں اور انسان کے پردہ میں شیطان بن کر آتے ہیں۔ خدا ہماری قوم کو ایسے شاعروں سے اور ان کی ایسی شاعری سے نجات دے۔
join rekhta family!
-
ادب اطفال1924
-