- کتاب فہرست 181564
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1385 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1706 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4297 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4866
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سیدہ اختر کا تعارف
اصلی نام : سردار بیگم
پیدائش : 09 Mar 1918 | حیدر آباد, تلنگانہ
سیدہ اختر اپنے زمانے کی مشہور شاعرہ اور نثر نگار تھیں ۔قومی خدمات کا شدید جزبہ رکھتی تھیں۔ پہت اچھی مقرر تھیں، ان کو خطیبہ ہند اور زہرہ سخن کے خطاب دئے گئے تھے۔ مشاعروں میں اپنی ملًی و اصلاحی نظمیں اور جلسوں میں تقریریں بہت پر جوش طریقے سے پیش کرتی تھیں۔ پہلے خاکسار تحریک میں فعال رہیں اس کے بعد صدر آل انڈیا زنانہ مسلم لیگ رہیں۔
ان کے آبا واجداد لکھنؤ سے تعلق رکھتے تھے۔ ہجرت کر کے حیدر آباد میں بس گئے ان کے دادا کا نام اعظم جنگ بہادر تھا۔ چار سال کی تھیں جب والد گذر گئے چچا نے پالا تھا۔ گھر پر فارسی اور اردو کی ابتدائ تعلیم کے بعد محبوبیہ اسکول میں داخل ہوئیں۔ 1932، میں نصیر آباد (راجپوتانہ) کے رئیس اور گورنمنٹ کانٹریکٹرعبد المغنی سے شادی ہوئ۔ زیادہ تر کانپور میں دہیں لیکن اپنے نام کے ساتھ حیدرآبادی لکھتی تھیں۔
شادی کے بعد شاعری کی طرف مائل ہوئیں شروع میں رومانی شاعری کا رجحان رہا اس کے بعد جب خاکسار تحریک میں فعال ہوئیں تو ملی و انقلابی نظمیں کہیں اور بہت مشہور ہوئیں۔ 1938 میں مشرق بعید کا سفر کیا، وہاں کی خواتین کی زندگی مطالعہ کیا اور واپس آکر آصلاح خواتین کے لئے مزید جوش سے کام کرنے لگیں۔ علامہ اقبال سے بہت متاثر تھیں، اقبال کے کلام پر تضمینوں پرمشتمل کتاب ’اقبال واختر‘ شائع ہوئ ہے۔
1943میں بنگلور میں ایک عظیم الشان مشاعرہ و کانفرنس ہوئ تھی جس کے سب اخراجات سیدہ اختر نے اٹھائے تھے۔ اس مشاعرے کی روداد ماہنامہ شاعر، آگرہ کے سن 1943 کے کئ شماروں میں شائع ہوئ تھی۔join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
