- کتاب فہرست 177178
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1987
ڈرامہ919 تعلیم345 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4294 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6603افسانہ2688 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5836-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4851
- مرثیہ386
- مثنوی749
- مسدس42
- نعت579
- نظم1191
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
طاہرہ اقبال کے افسانے
شہ رگ
نہر کا پاٹ چوڑا تھا اور پانی کا بہاؤ تیز تھا۔ کبھی مورنی سی پیلیں ڈالتا بھنور سا گھومتا، کبھی پنہاری سی گاگریں لڑھکاتا ،چھلیں اڑاتا، نہر کے ان عنابی رنگ پانیوں میں عورتیں نہاتیں تو امو کو اپنی گابھن بکریوں کی طرح رس بھری معلوم ہوتیں۔ ان بکریوں کی طرح
پردہ
مکئی کے کھیت میں سے اس نے چھلی توڑی، جیسے انگوٹھے اور انگلی کی پور کو جوڑ کر چٹکی بجائی ہو۔ ادھ کچری چھلی کے گلابی چہرے والا بوٹا کمر لچکا کر سر سرایا۔ خانو دو بیگھ بھرے برسیم کے جامنی پھولوں پر سے تیرتا ہوا مکئی کے اس کھیت میں اترا۔ چھلی توڑتی ریشو
غلاما
یہ گاؤں کے ایک ایسے سیدھے سادے شخص غلاماں کی داستان ہے، جس سے گاؤں کا ہر شخص اچھا برا کام کرا لیتا ہے۔ غلاماں زمینداروں کے کھیتوں میں بیگار بھی کرتا ہے اور جب مسجد میں نمازیوں کی کمی سے مسجد کا امام پریشان ہوتا ہے تو وہ مسجد بھی پہنچ جاتا ہے۔ کسی کا حلالہ ہونا ہے تو وہ دولہا بن جاتا ہے۔ ایک روز گاؤں والے غلاما کی شادی ایک حاملہ عورت سے کرا دیتے ہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی امام صاحب کو یہ نکاح پڑھانا پڑتا ہے اور اس کے بعد امام صاحب کو غلاما سے نفرت ہو جاتی ہے۔ حاملہ عورت کے بچہ پیدا ہونے کے بعد وہ عورت بھاگ جاتی ہے۔ ایک دن غلاما اپنے نوزائیدہ بیمار کو لیکر امام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس کی حالت دیکھ کر امام صاحب کا غصہ خود بخود ختم ہو گیا۔
ہڑپہ کی چرواہی
چناں کو لگتا ان پہرے داروں سے اس کی نفرت اتنی ہی پرانی ہے جتنے پرانے ہڑپہ کے یہ کھنڈرات ہیں جن میں بوڑھے خمیدہ کمر، کھوکھلے تنوں والے چھال ادھڑے اوکان اور جنڈبکائن آدھے آدھے دفن ہیں، جن کی دھول لتھڑی شاخیں چھتریاں تانے بھربھری زمین میں منہ کے بل دھنسی
روشندان
صغریٰ حیران رہ گئی۔ اپنوں کے رویے حالات کے چاک پر ایسی گھڑتیں بھی تبدیل کر لیتے ہیں کیا؟ابھی ابھی جو اس کے گرد بیں ڈالتی اور اسے پلوتے دیتی ہوئی باہر نکلی تھی وہ اس کی اپنی ماں تھی جو اسے بیٹوں کی طرح باسی روٹی کے ساتھ کھانے کو دہی کا پاؤ بھر دیتی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1987
-
