- کتاب فہرست 180677
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1656 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح604 صحافت201 زبان و ادب1145
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4276 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6690افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2013نصابی کتاب440 ترجمہ4189-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1265
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی735
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
تمنا عمادی مجیبی کا تعارف
تمنّاعمادی
نام سید حیات الحق محمد محی الدین، علامہ۔ ۱۴؍جون ۱۸۸۸ء کو پیدا ہوئے۔ پھلواری شریف، ضلع پٹنہ آپ کا مولد ومسکن تھا۔ آ پ نے درس نظامی کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ حدیث شریف اور طب کا بھی مطالعہ کیا۔ شمشاد لکھنوی سے تلمذ حاصل تھا۔ فارسی شاعری اور عربی ادب میں علامہ شبلی سے استفادہ کیا۔ جب سید عبدالعزیز بیرسٹر ،پٹنہ حیدرآباد ،دکن گئے اور وزارت امور مذہبی وعدلیہ پر مامور کیے گئے تو تمنّا عمادی بھی حیدرآباد تشریف لے گئے اور عرصے تک ان کے ساتھ اقامت پذیر رہے۔تمنا عمادی ۱۹۴۸ء میں ڈھاکہ ہجرت کرگئے۔ کافی عرصہ ڈھاکہ ریڈیو سے قرآن شریف کا درس دیتے رہے۔ ڈھاکا سے نقل مکانی کر کے چاٹگام اور پھر آنکھ کے آپریشن کے سلسلے میں کراچی آگئے اور یہیں ۲۷؍نومبر ۱۹۷۲ء کو انتقال کرگئے۔ علامہ تمنا عمادی کا علم بحر بے پایاں تھا ان کامطالعہ بہت وسیع تھا۔ یہ بڑے پرگو اور مشاق شاعر تھے۔ شعروسخن اور فن عروض میں انھیں استادی کا مرتبہ حاصل تھا۔بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:314
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
