Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Taqi Abedi's Photo'

تقی عابدی

1952 | ٹورنٹو, کناڈا

کینیڈا میں مقیم اردو محقق، مترجم اور طبیب

کینیڈا میں مقیم اردو محقق، مترجم اور طبیب

تقی عابدی کا تعارف

تخلص : 'تقی'

اصلی نام : سید تقی حسن عابدی

پیدائش : 01 Mar 1952 | دلی

LCCN :no2004065660

شناخت:محقق، نقاد، مترجم، شاعر اور طبیب

ڈاکٹر تقی عابدی اردو ادب کے اُن منفرد اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے پیشہ ورانہ طور پر طب کے میدان میں اعلیٰ مقام حاصل کیا، مگر اپنے شوق اور ذوق کے اعتبار سے اردو ادب کی خدمت کو زندگی کا مقصد بنا لیا۔ وہ بیک وقت محقق، نقاد، مترجم، مدون اور شاعر ہیں، اور اپنی ہمہ جہت ادبی خدمات کے باعث معاصر اردو دنیا میں ایک نمایاں اور باوقار مقام رکھتے ہیں۔

سید تقی حسن عابدی یکم مارچ 1952ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی و دینی خانوادے سے ہے، جس کی جڑیں اتر پردیش کے علاقے امروہہ کے قریب نوگانواں سادات میں پیوست ہیں۔ ان کا نسب حضرت نظام الدین اولیا سے جا ملتا ہے۔ ان کے والد سید سبط نبی عابدی ایک تعلیم یافتہ شخصیت تھے اور پیشے کے اعتبار سے جج تھے، جن کی ملازمت کے باعث خاندان دہلی سے حیدرآباد منتقل ہو گیا۔

ابتدائی و اعلیٰ تعلیم حیدرآباد میں حاصل کی۔ انہوں نے ایم بی بی ایس کے بعد برطانیہ سے ایم ایس کیا، امریکہ سے ایف سی اے پی (Fellow of College of American Pathologists) اور کینیڈا سے ایف آر سی پی (Fellow of Royal College of Physicians) کی اسناد حاصل کیں۔ اس کے علاوہ گلاسگو یونیورسٹی سے پیتھالوجی میں ایم ایس سی کیا اور امریکی بورڈ آف پیتھالوجی کے ڈپلومیٹ بھی ہیں۔ پیشہ ورانہ طور پر وہ کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو میں بطور فزیشین خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اگرچہ وہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں، مگر ادب ان کی شخصیت کا بنیادی جز ہے۔ اردو، فارسی اور ادبیات سے ان کی گہری وابستگی بچپن ہی سے رہی۔ انہوں نے ایران میں قیام کے دوران فارسی زبان پر غیر معمولی عبور حاصل کیا اور فارسی ادب کا عمیق مطالعہ کیا۔ ان کی ازدواجی زندگی بھی ایران سے وابستہ ہے، اور ان کی اہلیہ ان کی علمی سرگرمیوں میں معاون ہیں۔

ڈاکٹر تقی عابدی کی ادبی خدمات نہایت وسیع اور ہمہ جہت ہیں۔ وہ تقریباً 70 سے زائد کتابوں کی تصنیف، تدوین، تحقیق، تجزیہ اور ترجمہ کر چکے ہیں۔ تحقیق و تنقید میں انہیں خاص ملکہ حاصل ہے اور وہ کلاسیکی ادب کے پوشیدہ گوشوں کو سامنے لانے کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے ایسے کئی ادیبوں اور شاعروں کو منظر عام پر لایا جنہیں ادبی دنیا نے نظرانداز کر دیا تھا، اور انہیں ان کا جائز مقام دلانے کی کامیاب کوشش کی۔

غالب، میر انیس، مرزا دبیر، انشا اللہ خاں انشا، نجم آفندی، فرید لکھنوی اور دیگر اہم شخصیات پر ان کا تحقیقی کام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ خصوصاً مرزا دبیر اور میر انیس پر ان کی تحقیق اردو ادب میں ایک منفرد کارنامہ سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے میر انیس کے مرثیوں کا سائنسی و لسانی تجزیہ پیش کر کے ایک نئی تنقیدی جہت متعارف کرائی۔ اسی طرح فیض احمد فیض پر ان کی تصانیف "فیض فہمی" اور "فیض شناسی" بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر تقی عابدی کی ایک نمایاں خصوصیت ان کی ذاتی لائبریری ہے جو ٹورنٹو میں واقع ہے اور اردو ادب کے نادر و نایاب مخطوطات کا ایک عظیم ذخیرہ رکھتی ہے۔ اس لائبریری میں ہزاروں قیمتی قلمی نسخے موجود ہیں جنہیں انہوں نے اپنی ذاتی دلچسپی اور وسائل سے جمع کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اس علمی خزانے کو ایک کینیڈین یونیورسٹی کے نام وقف کر دیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے استفادہ کر سکیں۔

انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ آمدنی کو اردو ادب کی خدمت میں صرف کیا، جو ان کی غیر معمولی وابستگی اور عشقِ ادب کا ثبوت ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں دنیا بھر کی ادبی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ مختلف جامعات میں وزیٹنگ پروفیسر اور فیلو کی حیثیت سے بھی وابستہ رہے ہیں۔

ڈاکٹر تقی عابدی کی شخصیت علم، تحقیق، دیانت اور خلوص کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے اردو ادب کے نادر خزانوں کو محفوظ کر کے اور گمشدہ ادبی سرمایہ کو سامنے لا کر اس کی تاریخ کو مزید مستحکم اور مالا مال کیا ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے