- کتاب فہرست 181564
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1385 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1706 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4296 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6596افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4866
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عمر خیام کا تعارف
شناخت: فارسی کے عظیم رباعی گو شاعر، ممتاز ریاضی داں اور ماہرِ فلکیات
غیاث الدین ابو الفتح عمر بن ابراہیم نیشاپوری 18 مئی 1048ء کو ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے نام کے ساتھ 'خیام' کا لفظ شامل ہے جس کے معنی 'خیمہ دوز' (Tent-maker) کے ہیں، جو غالباً ان کے آباؤ اجداد کا پیشہ تھا۔ انہوں نے نیشاپور میں علومِ دینیہ، فلسفہ، ریاضی اور فلکیات کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں بخارا اور سمرقند جیسے علمی مراکز کا سفر کیا، جہاں انہوں نے اپنی مشہور کتاب 'رسالہ فی الجبر' تحریر کرنی شروع کی۔
عمر خیام اپنے دور کے مایہ ناز ریاضی داں تھے:
مکعب مساواتیں (Cubic Equations): وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مکعب مساواتوں کا عمومی نظریہ پیش کیا اور مخروطی اشکال (Conic Sections) کے ذریعے ان کا ہندسی حل نکالا۔
اصولِ متوازی (Parallel Postulate): انہوں نے اقلیدس کے پانچویں اصول پر بحث کی اور 'خیام-سیکرری چوکور' (Khayyam-Saccheri Quadrilateral) کا تصور پیش کیا، جس نے صدیوں بعد 'غیر اقلیدسی ہندسہ' (Non-Euclidean Geometry) کی بنیاد رکھی۔
بائینومیل تھیورم: انہوں نے اعداد کے جزر نکالنے کے طریقوں پر کام کیا اور غالباً وہی پہلے شخص تھے جنہوں نے بائینومیل تھیورم (Binomial Theorem) کی اہمیت کو سمجھا۔
سلطان ملک شاہ اول کے دور میں خیام کو اصفہان میں رصد گاہ قائم کرنے اور تقویم (کیلنڈر) کی اصلاح کا کام سونپا گیا:
جلالی کیلنڈر: انہوں نے ایک شمسی تقویم ڈیزائن کی جو موجودہ 'گریگورین کیلنڈر' سے بھی زیادہ درست ہے۔ اس میں سال کی طوالت کا حساب اعشاریہ کے کئی درجوں تک درست لگایا گیا تھا (365.24219858156 دن)۔ یہ کیلنڈر آج بھی ایران اور افغانستان میں رائج شمسی تقویم کی بنیاد ہے۔
عمر خیام کی عالمی شہرت ان کی رباعیوں کی وجہ سے ہے۔ 1859ء میں ایڈورڈ فٹز جیرالڈ (Edward FitzGerald) کے انگریزی ترجمے نے خیام کو مغرب میں ایک افسانوی شخصیت بنا دیا۔ ان کی رباعیوں میں زندگی کی بے ثباتی، موت کا فلسفہ، حال میں جینے کی ترغیب اور کائنات کے اسرار پر حیرت کا اظہار ملتا ہے۔
اگرچہ بعض علماء ان رباعیوں کی ان سے نسبت پر شک کرتے ہیں، لیکن تاریخی طور پر انہیں ایک صاحبِ طرز شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔
خیام خود کو بوعلی سینا کا معنوی شاگرد مانتے تھے۔ ان کے نظریات کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ نقاد (جیسے صادق ہدایت) انہیں لا ادری (Agnostic) یا شکاک مانتے ہیں جو مذہبی انتہا پسندی کے مخالف تھے۔ دوسری طرف، صوفیانہ شارحین ان کی شاعری میں استعمال ہونے والی 'شراب' اور 'مستی' کو علامتی معنوں میں (خدا کی محبت میں سرشاری) لیتے ہیں۔ وہ انسانی عقل کی محدودیت اور تقدیر کے اٹل ہونے پر یقین رکھتے تھے۔
وفات: عمر خیام نے 83 برس کی عمر میں 4 دسمبر 1131ء کو اپنے آبائی شہر نیشاپور میں وفات پائی۔ ان کا مقبرہ آج بھی نیشاپور میں مرجعِ خلائق ہے، جس کی دیواروں پر ان کی رباعیات خطاطی کے نمونوں کے طور پر کندہ ہیں۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Omar_Khayyam
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
