- کتاب فہرست 179123
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3276طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
اسلوب احمد انصاری کا تعارف
اسلوب احمد انصاری 1925ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1946ء میں انگریزی سے ایم اے کیا اور فرسٹ کلاس آئے۔ 1947ء میں اسی یونیورسٹی میں انگریزی کے لکچرر ہوگئے۔ ابھی علم کی پیاس بجھی نہیں تھی لہٰذا لندن گئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویٹ ہوئے۔ 1959ء میں شعبہ انگریزی کے ریڈر ہوگئے اور 1967ء میں پروفیسر ہوگئے۔ 1965ء سے 1984ء تک وہاں کے صدر شعبہ رہے۔ ان کی اردو کتابوں کی تفصیل یہ ہے:
’’ادب اور تنقید‘‘، ’’نقش غالب‘‘، ’’اقبال کی تیرہ نظمیں‘‘، ’’نقش اقبال‘‘، ’’اقبال کی منتخب نظمیں اور غزلیں‘‘ ’’اقبال: حرف و مومن‘‘، ’’نقش ہائے رنگ رنگ‘‘ (غالب) ’’اطراف رشید احمد صدیقی‘‘، ’’اردو کے پندرہ ناول‘‘، ’’آئینہ خانے میں‘‘، ’’نذر منظور‘‘ (ترتیب) ’’غزل تنقید‘‘ (دوجلدوں میں) (ترتیب)، ’’غالب: جدید تنقیدی تناظرات‘‘، ’’اقبال: جدید تنقیدی تناظرات‘‘، ’’تنقیدی تبصرہ‘‘، ’’حرف چند‘‘۔
ان کتابوں کی بنیاد پر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اسلوب احمد انصاری کا تنقیدی شعور مختلف صنفوں کے تجزیے کی طرف مائل رہا ہے۔ ایک طرف تو انہوں نے غالب اور اقبال کے مطالعات سے گہری دلچسپی لی تو دوسری طرف منتخب ناولوں کے معیار ومنہاج سے بحث کی۔ متفرق طرز کے مضامین بھی لکھے۔ لیکن مجموعی طور پر اس کا احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے اقبال سے غایت دلچسپی رکھی ہے اور ان کی شاعری کے بعض گوشوں کو منور کرنے کی کوشش کی۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ اسلوب احمد انصاری کے اردگرد کسی ازم کا حصار نہیں۔ نتیجہ میں وہ آزادانہ طور پر اپنے ذوق کی روشنی میں ادبی تجزیے کے مشکل مرحلے سے گزرتے رہتے ہیں۔ انہیں کسی رائج اسکول سے وابستگی عزیز نہیں اس لئے ان کی تنقید میں مختلف رنگ پائے جاتے ہیں۔ کہیں کہیں نیوکریٹی سزم کی جھلکیاں ملتی ہیں تو کہیں ان کے متضاد طریق کار کارکی بھی۔ گویا ایک طرح سے ان کی تنقید ان کے ذہن کی اوٹونوی کا پتہ دیتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بھی فن پارہ پڑھنے والوں پر تفہیم کا باب مطلقاً کھول دے۔ اس عمل میں وہ ریاضیاتی تجزیے سے گزرتے ہوتے ہیں اور پہلے کسی شعری فن پارے کو معنوی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے بعد اپنے طور پر اس کے معیار کی باتیں کرتے ہیں۔ گویا ان کی غایت بس اتنی ہے کہ تفہیم کا عمل سرانجام پاجائے۔ عام طورسے ان کا رویہ ہمدردانہ ہوتا ہے۔ شعری یا نثری تجزیے میں عیوب سے زیادہ محاسن کی تلاش کرتے ہیں۔ اس عمل میں ان کا ذاتی ذوق اور مطالعہ بھی رہنما ہوتا ہے لیکن شاعر یا مصنف کے حق میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ زیادہ تر خوبیوں کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔
اسلوب احمد انصاری کی تحریر میں کہیں پیچیدگی نہیں ہوتی۔ وہ باتوں کو کھل کر بیان کرنا چاہتے ہیں۔ اس عمل میں بعض امرطولانی بن جاتے ہیں اور کہیں کہیں تکرار کی بھی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ایک ایسا شخص جو انگریزی ادبیات سے ساری زندگی وابستہ رہا وہ کوئی واضح ادبی نقطہ نظر کیوں نہ پیدا کرسکا۔ یہ بات بعضوں کو الجھن میں ڈال سکتی ہے۔
اسلوب احمد انصاری نے انگریزی میں بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ انگریزی میں کم ازکم ان کی آٹھ دس کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں دو طبع زاد اور چھ ترتیب دی ہوئی ہیں۔ طبع زاد کتابوں میں ایک ولیم بلیک پر ہے۔ مرتبہ کتابوں میں ان کے پیش نظر ملٹن، جان ڈن، سروالٹر ریلے اور اقبال اور سرسید ہیں۔ انہوں نے مختلف انگریزی رسالوں میں بھی چند مضامین لکھے ہیں۔ موصوف نے جو مضامین شیکسپیئر سے متعلق لکھے ہیں وہ ایک اطلاع کے مطابق مغرب میں پسند کئے گئے ہیں، جن بعض حوالے بھی دیئے جاتے رہے ہیں۔
اسلوب احمد انصاری کو صحافت سے بھی دلچسپی رہی ہے۔ وہ اردو میں 1979ء سے 2001 ء تک ’’نقد و نظر‘‘ جیسا اہم جریدہ نکالتے رہے۔ انگریزی کے علیگڑھ جنرل آف انگلش اسٹڈیز اور علی گڑھ کرٹیٹیکل مسیلینی کے بھی بنیاد گزار اور ایڈیٹر رہے ہیں۔
اسلوب احمد انصاری کو کئی ادبی انعامات مل چکے ہیں، جن میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور غالب ایوارڈ بھی ہیں۔اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n50021281
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
