- کتاب فہرست 180366
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ویکوم محمد بشیر کے افسانے
محبت نامہ
میری پیاری سراما! میری پیاری ساتھی، وجود کے اس مختصر لمحے میں جب زندگی جوانی کے جوش سے ابلی پڑتی ہو اور جب دل محبت کی خوشبو سے معطر ہو۔۔۔ جہاں تک میرا معاملہ ہے، میری زندگی کا ہرلمحہ سراما کی محبت میں گذرتا ہے۔ اور سراما، تمہارا میں اپنے
سیکنڈ ہینڈ
غصہ میں بھری ہوئی، بال بکھرائے شاردا، آج تانڈو ناچ کے موڈ میں تھی۔ ’’تم تو جانتی ہونا شاردے۔۔۔ آج مجھے کتنا ضروری کام ہے! کل اخبار نکلنے کا دن ہے نا۔۔۔! تو بھئی اگر کھانا تیار ہو تب مجھے جلدی سے دے دو۔۔۔‘‘ نامہ نگار گوپی ناتھ نے بڑی نرمی سے کہا۔‘‘ ’’کھانا۔۔۔؟‘‘
تعویذ
منتراچراتوکا وجود اس دن ہوا جس دن ایک آم عبدالعزیز کے گنجے سر پر گرا۔ گھر کے قریب لگے ہوئے آم کے درخت سے پکے آم تو گرتے ہی رہتے تھے۔ ان گرے ہوئے آموں کو اگر فورا نہ اٹھایا جاتا تو خان انہیں فوراً لپک لیتا اور جھوٹا کرکے انہیں ناپاک کر دیتا تھا اور
ہاتھی کی پونچھ
یہ ایک چوری کی کہانی ہے۔ ایک بہت بڑا ہاتھی تھا جس نے دو مہاوتوں کو اپنے پیروں تلے روندکر مار ڈالا تھا۔ اسی ہاتھی کی دم سے ایک بال چرانا تھا اور اس طرح چرانا تھا کہ کوئی دیکھنے نہ پائے۔ نہ ابا، نہ اماں اور نہ ہی مہاوت۔ مجھے اس کی دم سے ایک بال، صرف ایک
ایک چھوٹی سی پرانی پریم کہانی
یہ واقعہ تقریباً بیس برس قبل ہوا تھا مگر مجھے اس طرح یاد ہے جیسے یہ کل کی بات ہو۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ان دنوں والی چستی اور ہمت کہاں چلی گئی۔ اس زمانے میں صرف ایک قوت ہوا کرتی تھی۔ جوانی کی امنگ اور بس۔ دل نے جو کہا وہ کر گذرے۔ اے حسن اور اندھے یقین
ٹائیگر
خشک سالی سے ملک کے اکثر لوگ کمزور ہوکر محض کھال اور ہڈیوں کے ڈھانچے رہ گئے تھے مگر ٹائیگر پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ خوش قسمت کتا! آرام کرتے ہوئے ٹائیگر کو دیکھ کر یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ یہ کوئی کمبل میں لپٹی ہوئی بڑی سی گٹھری ہے۔ وہ دوغلی نسل
ماں
ایک دور دراز شہر کی زندگی کے مصائب جھیلتے ہوئے بیٹے کو ماں خط لکھتی ہے۔ اس کی تحریر میں اس کے دل کا درد ہے، ’’بیٹے، میں بس تجھے دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘ صرف اتنا ہی لکھ کر وہ رکتی نہیں ہے۔ گرامر کے ہر قاعدے اور ہر اصول سے عاری، گھسیٹ میں لکھے ہوئے خط
سونے کی انگوٹھی
ایک دن بیوی نے اپنے ٹین کے بکس سے سونے کی ایک پرانی انگوٹھی نکالی اور اسے اپنی انگلی میں ڈال کراس کی قدروقیمت کا اندازہ کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا، ’’اچھی لگ رہی ہے نا؟‘‘ میں نے پوچھا، ’’باوا آدم کے زمانے کایہ کھلونا تمہارے پاس کہاں سے آیا؟‘‘ ’’یہ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
