- کتاب فہرست 180769
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3351طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1142
خطوط725 طرز زندگی30 طب975 تحریکات268 ناول4284 سیاسی349 مذہبیات4779 تحقیق و تنقید6707افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب441 ترجمہ4198-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1269
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4886
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت592
- نظم1214
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
واجدہ تبسم کا تعارف
اٹھ کے محفل سے مت چلے جانا
تم سے روشن یہ کونا کونا ہے
شناخت: اردو ادب کی بے باک اور جرأت مند افسانہ نگار، ناول نگار اور حیدرآباد دکن کی زوال پذیر جاگیردارانہ تہذیب کی نبض شناس
واجدہ تبسم 16 مارچ 1935ء کو امراوتی، مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں۔ کم عمری ہی میں والدین کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے باعث وہ یتیمی، معاشی تنگی اور محرومی کے احساس سے دوچار ہوئیں۔
1947ء کے ہولناک فرقہ وارانہ فسادات اور تقسیمِ ہند کے نتیجے میں ان کا پورا خاندان امراوتی سے حیدرآباد دکن منتقل ہو گیا۔ ان سانحات اور ہجرت کے جبر نے ان کی طفولیت کو گہرا صدمہ پہنچایا اور ان کی شخصیت و ادبی فکر کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد سے اردو ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے ان کا رجحان تخلیقی ادب کی طرف تھا۔
1960ء میں ان کی شادی اپنے چچا زاد اشفاق احمد سے ہوئی، جو محکمۂ ریلوے سے وابستہ تھے۔ شادی کے بعد وہ ممبئی منتقل ہو گئیں۔
ان کے افسانے پہلی بار معروف ادبی جریدے "بیسویں صدی" میں شائع ہوئے اور وہ جلد ہی ادبی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔
واجدہ تبسم عصمت چغتائی کے بعد اردو کی ان معدودے چند افسانہ نگاروں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنا بالکل منفرد اور اچھوتا اسلوب قائم کیا۔ ان کی زبان میں دکنی محاورے، نسوانی لہجہ، طنز، شوخی اور گہرا تہذیبی رنگ پایا جاتا ہے۔
انہوں نے حیدرآباد کے زوال پذیر اشرافیہ طبقے، نوابوں کی عیاشانہ طرزِ زندگی، بیگمات، کنیزوں، باندیوں، طبقاتی تفاوت، معاشی بحران، عورت کی نفسیات اور جنسی جبر کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔
عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کی روش پر چلتے ہوئے انہوں نے ان ممنوعہ موضوعات اور جنسی حقیقتوں کو ادبی وقار کے ساتھ پیش کیا جن پر عموماً قلم اٹھانے سے گریز کیا جاتا تھا۔ اسی بے باکی کی وجہ سے ان پر شدید نکتہ چینی ہوئی اور ان کی تحریروں کو متنازع قرار دیا گیا، لیکن انہوں نے اپنے تخلیقی رویے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
"شہرِ ممنوع" (1960ء)، جو ان کا پہلا افسانوی مجموعہ تھا اور بے حد مقبول ہوا، "توبہ توبہ"، "تہہ خانہ"، "آیا بسنت سکھی" (1974ء) اور "اترن" (1977ء) ان کے اہم افسانوی مجموعے ہیں۔ انہوں نے "شعلے"، "ساتواں پھیرا" اور "نتھ کی عزت" کے نام سے ناول بھی تحریر کیے۔
ان کی کہانی "اترن" اردو فکشن کی مقبول ترین کہانیوں میں شمار ہوتی ہے، جس پر بعد میں کامیاب ٹیلی ویژن سیریل اور فلمیں بھی بنائی گئیں۔
"تین جنازے"، "گلستاں سے قبرستان تک"، "کالے بادل"، "سہاگن"، "ناگن"، "عیدی"، "آگ میں پھول"، "ذرا ہور اوپر"، "نتھ کا غرور"، "نتھ کا بوجھ" اور "نتھ اتروائی" ان کی مشہور کہانیوں میں شامل ہیں۔
عمر کے آخری حصے میں وہ گٹھیا (Arthritis) کے شدید مرض میں مبتلا رہیں، جس کے باعث انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ تاہم ان کی ادبی شہرت اور تخلیقی اثرات برقرار رہے۔
ان کی ادبی خدمات کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا گیا اور ان کی بعض کہانیاں امریکہ کی جامعات، خصوصاً شکاگو یونیورسٹی، کے نصاب میں شامل کی گئیں۔
وفات: واجدہ تبسم کا انتقال 7 دسمبر 2011ء کو ممبئی میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Wajida_Tabassum
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
-
