- کتاب فہرست 182670
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1608
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
یوسف سلیم چشتی کا تعارف
شناخت: ماہرِ اقبالیات، محقق، فلسفی اور شارحِ اقبال
یوسف سلیم چشتی اردو دنیا کے ممتاز محقق، فلسفی اور بالخصوص ماہرِ اقبالیات کے طور پر معروف ہیں۔ انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کی شرح و توضیح میں غیر معمولی خدمات انجام دیں اور تصوف، فلسفہ اور تقابلی مذاہب پر وقیع علمی کام کیا۔
یوسف سلیم چشتی 2 مئی 1895ء کو بریلی (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد عیسیٰ خان محکمۂ پولیس سے وابستہ تھے جبکہ والدہ عزیز جہاں بیگم مذہبی مزاج رکھتی تھیں۔ ابتدائی تعلیم عربی، فارسی اور اردو میں گھر پر حاصل کی۔
1912ء میں میٹرک، 1916ء میں ایف اے اور 1918ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے فلسفہ میں بی اے آنرز کیا۔ بعد ازاں فلسفہ میں ایم اے کیا اور مذہبی تعلیم کے تحت عالمِ الہیات کی سند بھی حاصل کی۔ وید اور دھرم شاستر کی تعلیم بھی حاصل کی، جس سے ان کے تقابلی مطالعۂ مذاہب کو وسعت ملی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد تدریس سے وابستہ ہوئے۔ کانپور اور لاہور کے تعلیمی اداروں میں لیکچرر اور پروفیسر رہے۔ سیالکوٹ کے مرے کالج میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ لاہور میں اشاعتِ اسلام کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1943ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دہلی اور پھر مختلف ریاستوں میں تعلیمی و مشاورتی ذمہ داریاں نبھائیں۔
تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان منتقل ہو گئے۔ کراچی اور لاہور میں قیام رہا اور تصنیف و تحقیق کو مستقل مشغلہ بنایا۔ کراچی کے علمی اداروں سے بھی وابستہ رہے اور ان کی ذاتی لائبریری علمی حلقوں میں معروف تھی۔
ان کی علمی شخصیت کا نمایاں پہلو تقابلی مطالعۂ مذاہب اور تصوف پر تحقیق ہے۔ کتاب “تاریخِ تصوف” اور “اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش” خاص طور پر اہم مانی جاتی ہیں۔
ماہرِ اقبالیات کے طور پر ان کا مقام بہت بلند ہے۔ انہیں طویل عرصہ علامہ اقبال کی صحبت نصیب ہوئی۔ انہوں نے اقبال کے تمام اردو و فارسی مجموعۂ کلام کی مفصل شرحیں لکھیں، جن میں: شرح بانگِ درا، شرح بالِ جبریل، شرح ضربِ کلیم، شرح ارمغانِ حجاز، شرح جاوید نامہ، شرح زبورِ عجم وغیرہ شامل ہیں۔ اقبال کے علاوہ غالب اور اکبر الہ آبادی کے کلام پر بھی شرحیں اور تحقیقی کام ک
ان کی تقریباً 25 کتابیں مختلف موضوعات پر شائع ہوئیں، جن میں تصوف، فلسفہ، اقبالیات اور ادبی شرح نگاری نمایاں ہیں۔ ان کے سینکڑوں مضامین مختلف رسائل میں بکھرے ہوئے ہیں۔
گہرے مطالعے، تنقیدی بصیرت اور دیانت دار علمی رویے کے باعث ان کا شمار سنجیدہ اہلِ علم میں ہوتا ہے۔ وہ خود کو اقبال کا “وکیل” کہا کرتے تھے، جو ان کی عقیدت اور فکری وابستگی کی علامت ہے۔
وفات: 11 فروری 1984ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
