Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Yusuf Salim Chishti's Photo'

یوسف سلیم چشتی

1895 - 1984 | لاہور, پاکستان

ممتاز شارح اقبال

ممتاز شارح اقبال

یوسف سلیم چشتی کا تعارف

تخلص : 'سلیم'

اصلی نام : محمد یوسف خان

پیدائش : 02 May 1895 | بریلی, اتر پردیش

وفات : 11 Feb 1984 | لاہور, پنجاب

شناخت: ماہرِ اقبالیات، محقق، فلسفی اور شارحِ اقبال

یوسف سلیم چشتی اردو دنیا کے ممتاز محقق، فلسفی اور بالخصوص ماہرِ اقبالیات کے طور پر معروف ہیں۔ انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کی شرح و توضیح میں غیر معمولی خدمات انجام دیں اور تصوف، فلسفہ اور تقابلی مذاہب پر وقیع علمی کام کیا۔

یوسف سلیم چشتی 2 مئی 1895ء کو بریلی (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد عیسیٰ خان محکمۂ پولیس سے وابستہ تھے جبکہ والدہ عزیز جہاں بیگم مذہبی مزاج رکھتی تھیں۔ ابتدائی تعلیم عربی، فارسی اور اردو میں گھر پر حاصل کی۔

1912ء میں میٹرک، 1916ء میں ایف اے اور 1918ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے فلسفہ میں بی اے آنرز کیا۔ بعد ازاں فلسفہ میں ایم اے کیا اور مذہبی تعلیم کے تحت عالمِ الہیات کی سند بھی حاصل کی۔ وید اور دھرم شاستر کی تعلیم بھی حاصل کی، جس سے ان کے تقابلی مطالعۂ مذاہب کو وسعت ملی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد تدریس سے وابستہ ہوئے۔ کانپور اور لاہور کے تعلیمی اداروں میں لیکچرر اور پروفیسر رہے۔ سیالکوٹ کے مرے کالج میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ لاہور میں اشاعتِ اسلام کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1943ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دہلی اور پھر مختلف ریاستوں میں تعلیمی و مشاورتی ذمہ داریاں نبھائیں۔

تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان منتقل ہو گئے۔ کراچی اور لاہور میں قیام رہا اور تصنیف و تحقیق کو مستقل مشغلہ بنایا۔ کراچی کے علمی اداروں سے بھی وابستہ رہے اور ان کی ذاتی لائبریری علمی حلقوں میں معروف تھی۔

ان کی علمی شخصیت کا نمایاں پہلو تقابلی مطالعۂ مذاہب اور تصوف پر تحقیق ہے۔ کتاب “تاریخِ تصوف” اور “اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش” خاص طور پر اہم مانی جاتی ہیں۔

ماہرِ اقبالیات کے طور پر ان کا مقام بہت بلند ہے۔ انہیں طویل عرصہ علامہ اقبال کی صحبت نصیب ہوئی۔ انہوں نے اقبال کے تمام اردو و فارسی مجموعۂ کلام کی مفصل شرحیں لکھیں، جن میں: شرح بانگِ درا، شرح بالِ جبریل، شرح ضربِ کلیم، شرح ارمغانِ حجاز، شرح جاوید نامہ، شرح زبورِ عجم وغیرہ شامل ہیں۔ اقبال کے علاوہ غالب اور اکبر الہ آبادی کے کلام پر بھی شرحیں اور تحقیقی کام ک

ان کی تقریباً 25 کتابیں مختلف موضوعات پر شائع ہوئیں، جن میں تصوف، فلسفہ، اقبالیات اور ادبی شرح نگاری نمایاں ہیں۔ ان کے سینکڑوں مضامین مختلف رسائل میں بکھرے ہوئے ہیں۔

گہرے مطالعے، تنقیدی بصیرت اور دیانت دار علمی رویے کے باعث ان کا شمار سنجیدہ اہلِ علم میں ہوتا ہے۔ وہ خود کو اقبال کا “وکیل” کہا کرتے تھے، جو ان کی عقیدت اور فکری وابستگی کی علامت ہے۔

وفات: 11 فروری 1984ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے