ظفر کمالی کے اشعار
نگاہوں میں جو منظر ہو وہی سب کچھ نہیں ہوتا
بہت کچھ اور بھی پیارے پس دیوار ہوتا ہے
جو چاہتا ہے کہ بن جائے وہ بڑا شاعر
وہ جا کے دوستی گانٹھے کسی مدیر کے ساتھ
شوہروں سے بیبیاں لڑتی ہیں چھاپہ مار جنگ
رابطہ ان کا بھی کیا کشمیر کی وادی سے ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جو اپنا بھائی ہے رہتا ہے وہ پاؤں کی ٹھوکر میں
مگر جورو کا بھائی تو گلے کا ہار ہوتا ہے
پوپلے منہ سے چنے کھانا نہیں ممکن حضور
آ نہیں سکتی جوانی لوٹ کے معجون سے
وہی سلوک زمانے نے میرے ساتھ کیا
کیا تھا جیسا مشرف نے بے نظیر کے ساتھ
یہ رشوت کے ہیں پیسے دن میں کیسے لوں مسلماں ہوں
میں لے سکتا نہیں سر اپنے یہ الزام روزے میں
جو بیٹھا ہے بگلا بھگت کی طرح
وہی ہم کو اصلی شکاری لگے
سیاست میں ایسی اچھل کود ہے
کہ ہر ایک نیتا مداری لگے