Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Zafar Kamali's Photo'

ظفر کمالی

1959 - - | سیوان, انڈیا

ظفر کمالی کے اشعار

405
Favorite

باعتبار

نگاہوں میں جو منظر ہو وہی سب کچھ نہیں ہوتا

بہت کچھ اور بھی پیارے پس دیوار ہوتا ہے

جو چاہتا ہے کہ بن جائے وہ بڑا شاعر

وہ جا کے دوستی گانٹھے کسی مدیر کے ساتھ

شوہروں سے بیبیاں لڑتی ہیں چھاپہ مار جنگ

رابطہ ان کا بھی کیا کشمیر کی وادی سے ہے

جو اپنا بھائی ہے رہتا ہے وہ پاؤں کی ٹھوکر میں

مگر جورو کا بھائی تو گلے کا ہار ہوتا ہے

پوپلے منہ سے چنے کھانا نہیں ممکن حضور

آ نہیں سکتی جوانی لوٹ کے معجون سے

وہی سلوک زمانے نے میرے ساتھ کیا

کیا تھا جیسا مشرف نے بے نظیر کے ساتھ

یہ رشوت کے ہیں پیسے دن میں کیسے لوں مسلماں ہوں

میں لے سکتا نہیں سر اپنے یہ الزام روزے میں

جو بیٹھا ہے بگلا بھگت کی طرح

وہی ہم کو اصلی شکاری لگے

وہ مسجد ہو کہ مندر ہو ادب ہو یا سیاست ہو

وہی ہے جنگ کرسی کی وہی دستار کا جھگڑا

سیاست میں ایسی اچھل کود ہے

کہ ہر ایک نیتا مداری لگے

وفور عشق کے جذبے سے ہو گئی سرشار

نکل پڑی ہے مریدن جدید پیر کے ساتھ

چھڑا جب ان کے گھر جھگڑا تو ان کی عقل چکرائی

جو سلجھاتے رہے تھے عمر بھر بازار کا جھگڑا

خبر کر دو محلے میں اگر چھیڑا کسی نے بھی

اسی دم میں مچا سکتا ہوں قتل عام روزے میں

اس زمانے کی عجب تشنہ لبی ہے اے ظفرؔ

پیاس اس کی صرف بجھتی ہے ہمارے خون سے

Recitation

بولیے