- کتاب فہرست 178620
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ذاکر فیضی کے افسانے
میرا کمرہ
یونیورسٹی ہوسٹل کے میرے اس کمرے میں اکثر محفلیں جمتی تھیں۔ میرے چند دوست میرے کمرے میں آ جاتے تھے اور ارادی یا غیر ارادی طور پر کسی بھی موضوع پر بحث و مباحثہ کا آغاز ہو جاتا تھا۔ یونیورسٹی اپنے ڈبیٹ کلچر کے لئے مشہور تھی۔ یہاں کا ہر ایک طالب علم اپنے
دھورا نروان
پروفیسر صاحب پچپن سال کی عمر میں بھی بہت اسمارٹ اور خوب صورت لگ رہے تھے۔ اُن کے شاگردوں کا کہنا تھا کہ وہ بالوں کو رنگنے کے بعد چالیس سے زیادہ کے نہیں لگتے۔ انھوں نے سفید شرٹ پر لال ٹائی باندھی ہوئی تھی اور کوٹ نیلے رنگ کا تھا۔ وہ لمبے سے آئینے کے سامنے
ٹی۔ او۔ ڈی
وہ اسٹوری ٹیلر کے نام سے اس قدر مشہور ہو چکی تھی کہ لوگ اس کا اصل نام تک نہیں جانتے تھے۔ کبھی کبھی اس کے فن اور شخصیت پر کوئی مضمون شائع ہوتا تو اس کا اصل نام سامنے آجاتا تھا ورنہ وہ زمانے کے لئے اسٹوری ٹیلر ہی تھی۔ دنیا کے بہت سے ملکوں کے بڑے بڑے شہروں
وائرس
معصوم نے قاتل کی جانب موبائل بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”بھیّا۔۔۔ م۔۔۔ می۔۔۔ میری۔۔۔ ماں سے کہنا۔۔۔ میں مرگیا۔“ یہ الفاظ اداکرتے ہوئے اس نے اپنے جسم کی تمام طاقت کو موبائل پکڑے ایک ہاتھ اور دونوں آنکھوں میں سمیٹ لیاتھا۔ مگر یہ جملہ پورا ہوتے ہوتے اس کی ساری طاقت
ٹوٹے گملے کا پودا
حنانے غسل خانے میں پانی سے بھری بالٹی رکھی۔ دروازہ بندکیا۔ نہانے سے پہلے حسب عادت پیرسے چپل نکاکرچند لمحے نل کو گھورا اوردوتین چپل نل پر جڑدیے۔ وہ زنگ زدہ نل جو برسوں سے بندتھا، خاموشی سے پٹتارہا۔ گذشتہ پندرہ سال سے ایسے ہی پِٹ رہاتھا۔ پندرہ سال قبل
اسٹوری میں دم نہیں ہے
ایک سرکاری دفتر کے بڑے بابو، ”ستارہ سینما“ کے ایک ایک پوسٹر کو بہت غور سے دیکھ رہے تھے، تقریباً ننگی تصویریں۔ ستارہ میں ”صرف بالغوں کے لیے“ فلم چل رہی تھی۔ دسمبر کی دھندلی شام تھی۔ ٹھنڈ زیاہ نہیں تھی۔ آج سنیچر تھا اور کل دفتر کی چھٹی اس لیے بڑے بابو
ہریا کی حیرانیاں
مداری سڑک کے کنارے مناسب مقام دیکھ کر تماشے کی تیّاری کر رہا تھا۔ جمورا اس کی مدد میں لگا تھا۔ مداری نے ایک پوٹلی کھولی، اس میں سے کالی چادر نکال کرزمین پر بچھا دی۔ پھر وہ پوٹلی سے دوسرا سامان نکال کر جمورے کو دینے لگا۔ جمورا استاد کے بتائے مقام پر اس
زندہ آتما
مُنّا لال کی کشمکش جاری تھی۔ وہ گاؤں کی گلیاں پار کر چکا تھا، اب تیزی سے کھیتوں کی طرف جا رہا تھا۔ اُس کے دماغ میں دو مختلف طوفان چل رہے تھے۔ ایک طوفان کہہ رہاتھا۔ ”منّا لال! تُجھے اس اندھیری رات میں سیما سے ملنے نہیں جانا چاہئے، گنگا کنارے نمعلوم
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
