- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم344 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3292طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط746
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4317 سیاسی354 مذہبیات4756 تحقیق و تنقید6623افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4251خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1284
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4879
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1209
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
زلیخا حسین کا تعارف
شناخت: کیرالہ میں اردو ناول نگاری کی بنیاد رکھنے والی ممتاز ناول نگار اور گمنام ادبی شخصیت
زلیخا حسین 1930ء میں کیرالہ کے تاریخی ساحلی شہر کوچین میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کوچین کے 'آسیہ بائی مدرسے' سے حاصل کی، جہاں ملیالم اور عربی کے ساتھ ساتھ اردو کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ ان دنوں حیدرآباد سے اساتذہ کیرالہ پڑھانے آیا کرتے تھے۔ زلیخا حسین نے ایسے ہی ایک استاد مولوی رضوان اللہ سے اردو زبان و ادب میں غیر معمولی مہارت حاصل کی۔
وہ ایک ایسے روایتی معاشرے کی پروردہ تھیں جہاں لڑکیوں کا گھر سے باہر نکل کر تعلیم حاصل کرنا عیب سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے گھر کے اندر رہ کر پریم چند، گلشن نندہ اور مہیندر ناتھ جیسے بڑے ناول نگاروں کا گہرا مطالعہ کیا اور کتب بینی کا شوق پروان چڑھایا۔
محض 15 سال کی چھوٹی عمر میں زلیخا کی شادی جناب حسین سے کر دی گئی۔ ان کے شوہر نے روشن خیالی کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں پڑھنے لکھنے کی مکمل آزادی فراہم کی۔
ان کی ابتدائی کہانیاں اور افسانے دہلی کے مشہور ادبی ماہناموں جیسے 'شمع' اور 'خاتونِ مشرق' میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے۔
شوہر کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں انہوں نے بیس سال کی عمر میں اپنا پہلا ناول "میرے صنم" لکھا، جسے دہلی کے چمن بک ڈپو نے 1950ء میں شائع کیا۔ یہ ملک کی تقسیم کا نازک ترین دور تھا، جس کی وجہ سے وہ کئی سال تک اپنے ناولوں پر اپنا نام، پتہ یا تصویر دینے سے کتراتی رہیں اور گمنامی کے پردے میں لکھتی رہیں۔
زلیخا حسین نے کیرالہ جیسے غیر اردو داں علاقے میں رہ کر، جہاں کسی کی مادری زبان اردو نہیں تھی، 28 ناول اور 8 ناولٹ اور درجنوں افسانے تخلیق کیے۔
اردو ماحول سے دور ہونے کے باوجود ان کے ناولوں میں دہلی اور لکھنؤ کی تہذیب و تمدن، معاشرتی زندگی اور محاوروں کی خوبصورت جھلکیاں ملتی ہیں، جو ان کے وسیع مطالعے کا ثبوت ہے۔
ان کا ناول "نصیب نصیب کی بات" ان کے دیگر ناولوں سے بالکل مختلف ہے، جو کیرالہ کے مقامی پس منظر (کولّم، آلپّی، اور ارناکولم) میں لکھا گیا ہے اور اس میں مقامی منظر کشی چابکدستی سے کی گئی ہے۔
زلیخا حسین کی زندگی کا ایک بڑا حصہ شدید ترین ذاتی صدمات اور دکھوں سے عبارت رہا، جس نے ان کی تحریروں پر بھی گہرے اثرات چھوڑے۔
کئی مسلسل صدمات اور گوشہ نشینی کی وجہ سے وہ اردو دنیا سے دور رہیں اور قارئین کو طویل عرصے تک معلوم ہی نہ ہو سکا کہ اتنے خوبصورت ناول لکھنے والی خاتون کہاں رہتی ہیں۔
جب ان کا ناول "تاریکیوں کے بعد" شائع ہوا، تو کیرالہ کے اس وقت کے وزیرِ تعلیم سی ای ایچ محمد کویا نے اس کا ملیالم ترجمہ کروا کر مشہور ہفت روزہ 'چند ریکا' میں قسط وار شائع کروایا، جو ان کی زندگی کا سنگِ میل بنا۔
زندگی کے آخری ایام میں مرکزی حکومت نے انہیں 'اردو زبان فیلو شپ کمیٹی' میں شامل کیا۔ 'کیرالہ اردو ٹیچرز ایسوسی ایشن' نے ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کر کے ان کی عزت افزائی کی۔
زلیخا حسین کے معروف ناولوں میں ’’میرے صنم‘‘، ’’آپا‘‘، ’’صبا‘‘، ’’او بھولنے والے‘‘، ’’پتھر کی لکیر‘‘، ’’روح کے بندھن‘‘، ’’اپنے اور پرائے‘‘، ’’تاریکیوں کے بعد‘‘، ’’نصیب نصیب کی بات‘‘، ’’راہ اکیلی‘‘، ’’حسرتِ ساحل‘‘ اور ’’ایک پھول ہزار غم‘‘ شامل ہیں۔ 1970ء میں شائع ہونے والے ناول ’’تاریکیوں کے بعد‘‘ نے انہیں خاص توجہ دلائی اور اس کا ملیالم ترجمہ بھی شائع ہوا۔
وفات: زلیخا حسین کا انتقال 15 جولائی 2014ء کو کوچین میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%84%DB%8C%D8%AE%D8%A7_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86 | https://mazameen.com/literature/%D8%B2%D9%84%DB%8C%D8%AE%D8%A7-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%84%D8%A7-%DA%A9%DB%8C-%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF-%D8%A7%D9%8F%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D9%86%D8%A7%D9%88%D9%84-%D9%86%DA%AF.html
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
