چرمرائی ہوئی پتنگ

صاحب علی

چرمرائی ہوئی پتنگ

صاحب علی

MORE BYصاحب علی

    چھ بجے چکے ہوں گے۔ دیوار سے سائے اترنے لگے تھے۔ کویلوں کی چھت پر سنہری دھوپ اب تک سستا رہی تھی۔ گلی کے موہانے پر چھوٹا رامو کھڑا تھا۔وہ پتنگ اڑا رہا تھا۔ پتنگ کیا تھی ایک کاغذ کے چھوٹے سے ٹکڑے کو آڑا ٹیڑھا پھاڑ کر بنائی گئی تھی۔ اس کے ایک کنارے پر چندی باندھی ہوئی تھی اور دوسرے کنارے پردھاگا۔ شکر کی پڑیا میں سے نکلا ہوا۔

    ماں نے ہی اسے وہ پتنگ بنا کردی تھی۔

    چھوٹا سا نازک اس کا ہاتھ۔ ۔ پتنگ کو جھٹکادینے پر وہ اوپر نیچے ہوتی۔ رامو کا چہرہ بھی تھوڑا اوپر اٹھا ہوا تھا، آدھے کھلے ہوئے پھول کی طرح۔ گالوں پر ایسی سرخی جیسے ان پر جاسندی کی کلیاں مل دی گئی ہوں۔ پتنگ اوپر جائے تو اس کے چہرے پر ہنسی آئے۔ پتنگ کے نیچے آنے پر چہرہ بھی مرجھاجائے۔ جیسے جیسے پتنگ گول گول گھومتی ویسے ویسے اس کی نازک سی گردن بھی مڑتی۔ کنول کے تنے کی طرح آگے پیچھے جھومتی۔ اتنے میں ہوا کا جھونکا آیا۔ پتنگ تیزی سے اوپر اڑی اور پڑوس ہی میں جو ایک منزلہ مکان بنا ہوا تھا، اس کے کٹہرے میں جاکر اٹک گئی۔ رامو کا ہاتھ اوپر کا اوپر ہی رہ گیا اور تھوڑا سا ڈھیلا پڑگیا۔

    پتنگ کیسے نکالی جائے؟ رامو کی ننھی ننھی بھویں اوپر اٹھ گئیں، ننھے سے ہونٹ مڑ گئے۔ گالوں کے گڈھوں کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔

    مکان کی بالکنی میں کوئی بیٹھا تھا۔ کیا پتہ کون تھا؟

    کٹہرے کی جالی میں سے موٹی موٹی مونچھیں نظر آرہی تھیں۔ رامو نے گردن اٹھا کر اوپر دیکھا۔ اسے بڑا ڈر لگا۔

    ’’سنیئے ذرا وہ پتنگ نکال دیں گے کیا؟‘‘ آخر کار رامو نے ہمت جٹائی اور ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ اس کی آواز ایسی تھی جیسے درخت کی شاخ پر چڑیا چہچہاتی ہو۔ مالے پر بیٹھے ہوئے آدمی کی مونچھوں میں حرکت ہوئی۔ رامو بالکل کانپنے لگا، پلکیں جھپکانے لگا۔

    ’’سنیے، ذرا میری پتنگ نیچے پھینکیے نا!‘‘ تھوڑا ارک کررامو نے پھر کہا۔ بڑی عاجزی بھری آواز میں اس نے کہا۔ اس نے کٹہرے کی جانب دیکھا تک نہیں۔ اس کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ اس کی نظر چھت کی طرف تھی۔

    پھر سے مونچھیں زور سے ہلیں۔ ابلی پڑ رہی لال لال آنکھوں نے اس کٹہرے کی جالیوں میں جھانکا۔ جس طرح بادل گرجتا ہے اسی طرح کوئی گرجا اور کاغذ کا ایک چرمرایا ہوا گولا نیچے آگرا۔ ویسے ہی رامو کے ہاتھوں سے دھاگا بھی پیچھے آیا۔ رامو کے پیٹ میں ہلچل سی ہوئی، اس کے نازک کلیجے کو جیسے کسی نے چرمرا دیا ہو۔ اسے رونا بھی نہیں آرہا تھا۔ جیسے آنسو گلے میں ہی اٹک گئے ہوں۔ اس نے گردن نیچے کی اور بند مٹھی سے آنکھیں پوچھتے ہوئے آہستہ آہستہ پیچھے مڑا۔ اس کے دوسرے ہاتھ میں دھاگا تھا اور دھاگے کے سرے پر کاغذ کا چرمرایا ہوا گولا تھا۔ وہ بھی رامو کے پیچھے رامو ہی کی طرح گھسٹ رہا تھا۔ رامو کی پتنگ تھی وہ۔

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY