Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ahmar Nadeem's Photo'

احمر ندیم

1998 | دلی, انڈیا

غزل کہنے والے اہم نوجوان شاعروں میں شامل، شاعری میں روایات کی پاسداری کے ساتھ ہم عصر شعری و سماجی تقاضوں کا بے باک بیان

غزل کہنے والے اہم نوجوان شاعروں میں شامل، شاعری میں روایات کی پاسداری کے ساتھ ہم عصر شعری و سماجی تقاضوں کا بے باک بیان

احمر ندیم کے اشعار

182
Favorite

باعتبار

یہ کیسی فصاحت کہ سمجھ میں نہیں آتی

تحریر محبت ذرا آسان لکھا کر

کتنے رشتوں کا میں نے بھرم رکھ لیا

اک تعلق سے دامن چھڑاتے ہوئے

کتنے ہی راز سب پر عیاں ہو گئے

اک ترا راز الفت چھپاتے ہوئے

دل لگانے کو سارا جہاں تھا مگر

سوچتا کون ہے دل لگاتے ہوئے

موت برحق ہے جب آ جائے ہمیں کیا لیکن

زندگی ہم تری رفتار سے ڈر جاتے ہیں

قافلے میں ہر اک فرد مختار ہے

قافلہ دیکھ لینا لٹے گا ضرور

چپکے چپکے اپنے اندر جاتے ہیں

سہمے سہمے باہر آنا پڑتا ہے

شاید میں اپنے آپ سے غافل نہ رہ سکا

کچھ لوگ میری ذات سے منسوب ہو گئے

تیری خواہش بھی نہ ہو تجھ سے شکایت بھی نہ ہو

اتنا احسان مری جان نہیں کرنا تھا

احوال میرے شور سلاسل کے سن رفیق

جیسے رواں دواں کوئی دریا قفس میں ہے

تم نے چنی ہے راہ جو ہموار ہے بہت

زاہد تمہاری راہ میں پتھر نہیں کوئی

ہم ایسے بخت کے مارے کہ شہر میں آ کر

لباس گردش دوراں بھی تار تار کیا

ہم اپنے آپ میں رہتے نہیں ہیں دم بھر کو

ہمارے واسطے دیوار و در کی زحمت کیا

گمان ہونے لگا ہے یہ کس کے ہونے پر

کہیں کہیں جو نہیں ہے کہیں کہیں ہے بہت

یہ کیا کہ ایک تال پہ دنیا ہے محو رقص

اس گردش کہن کو نئے صبح و شام دے

Recitation

بولیے