احمر ندیم کے اشعار
یہ کیسی فصاحت کہ سمجھ میں نہیں آتی
تحریر محبت ذرا آسان لکھا کر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کتنے رشتوں کا میں نے بھرم رکھ لیا
اک تعلق سے دامن چھڑاتے ہوئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کتنے ہی راز سب پر عیاں ہو گئے
اک ترا راز الفت چھپاتے ہوئے
دل لگانے کو سارا جہاں تھا مگر
سوچتا کون ہے دل لگاتے ہوئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
موت برحق ہے جب آ جائے ہمیں کیا لیکن
زندگی ہم تری رفتار سے ڈر جاتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
قافلے میں ہر اک فرد مختار ہے
قافلہ دیکھ لینا لٹے گا ضرور
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
چپکے چپکے اپنے اندر جاتے ہیں
سہمے سہمے باہر آنا پڑتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
شاید میں اپنے آپ سے غافل نہ رہ سکا
کچھ لوگ میری ذات سے منسوب ہو گئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تیری خواہش بھی نہ ہو تجھ سے شکایت بھی نہ ہو
اتنا احسان مری جان نہیں کرنا تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
احوال میرے شور سلاسل کے سن رفیق
جیسے رواں دواں کوئی دریا قفس میں ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تم نے چنی ہے راہ جو ہموار ہے بہت
زاہد تمہاری راہ میں پتھر نہیں کوئی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہم ایسے بخت کے مارے کہ شہر میں آ کر
لباس گردش دوراں بھی تار تار کیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہم اپنے آپ میں رہتے نہیں ہیں دم بھر کو
ہمارے واسطے دیوار و در کی زحمت کیا
گمان ہونے لگا ہے یہ کس کے ہونے پر
کہیں کہیں جو نہیں ہے کہیں کہیں ہے بہت
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
یہ کیا کہ ایک تال پہ دنیا ہے محو رقص
اس گردش کہن کو نئے صبح و شام دے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ