ایمن تنزیل کے افسانے
شکست
گرمی کی شام میں وہ لاؤنج میں ٹہل رہی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں اس کے ذہن کو روشن کر رہی تھیں قلم کو ہاتھ میں لے کرکچھ دیر ہونٹوں پر رکھا کہ اچانک ہٹایا اور ایک جملہ کاپی میں لکھا ‘’وہ میری زندگی ہے‘‘ اور پھر کچھ دیر سوچنے لگی اتنی دیر میں ملازمہ چائے لے