تمام
تعارف
غزل28
نظم12
شعر49
مزاحیہ1
ای-کتاب205
تصویری شاعری 4
آڈیو 8
ویڈیو 13
مرثیہ1
رباعی18
قصہ4
مضمون10
دیگر
نعت1
مثنوی1
الطاف حسین حالی کے مضامین
زبان گویا
اے میری بلبل ہزار داستان! اے میری طوطی شیوا بیان! اے میری قاصد! اے میری ترجمان! اے میری وکیل! اے میری زبانٍ! سچ بتا، توکس درخت کی ٹہنی اور کس چمن کا پودا ہے؟ کہ تیرے ہر پھول کا رنگ جدا اور تیرے ہر پھل میں ایک نیا مزہ ہے۔ کبھی تو ایک ساحر فسوں ساز ہے
مرزا کے اخلاق و عادات و خیالات
مرزا کے اخلاق نہایت وسیع تھے۔ وہ ہر شخص سے جوان سے ملنے جاتا تھا بہت کشادہ پیشانی سے ملتے تھے۔ جو شخص ایک دفعہ ان سے مل آتا تھا اس کو ہمیشہ ان سے ملنے کا اشتیاق رہتا تھا۔ دوستوں کو دیکھ کر وہ باغ باغ ہو جاتے تھے اور ان کی خوشی سے خوش اور ان کے غم سے
کمال شاعری کیلئے ضروری شرائط
شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لئے ضروری شرطیں حسب ذیل ہیں۔ یہ وہ شرطیں اور خاص باتیں ہیں جوشاعر کوغیر شاعر سے تمیز دیتی ہیں۔ ان میں سے ایک وہی ہے یعنی تخیل اور دوم محاکات یعنی صحیفہ فطرت کے مطالعے کی عادت اور الفاظ پر قدرت۔ سب سے مقدم اورضروری چیزجو شاعر
اردو کا واعظ شاعر
آج سے کوئی ۲۵ سال ادھر کی بات ہے۔ الہلال افق کلکتہ سے نیا نیا طلوع ہوا تھا اور ملک کی ساری فضا ابو الکلامی ادب و انشاء کے غلغلہ سے گونج رہی تھی، کہ ایک روز اس کے کسی مقالہ کے ذیل میں یہ شعر نظر سے گزرا، تعزیر جرم عشق ہے بے صرفہ محتسب بڑھتا ہے اور
مزاح
مزاح جس کو غلطی سے مذاق کہنے لگے ہیں، انسان کی ایک جبلی خاصیت ہے جو کم و بیش تمام افرادمیں پائی جاتی ہے۔ مزاح کو عربی، فارسی اور اردومیں تین مختلف القاب دیئے گئے ہیں، یعنی (۱) مطائبہ (۲) خوش منشی (۳) خوش طبعی تینوں لقب اس بات پر دلالت کرتے
حالی کے مقدمہ شعر و شاعری کی معنویت
حالیؔ کی بات ہو تو سجاد انصاری کایہ قول ضرور یاد آتا ہے کہ ’’میں اس حالیؔ کا قائل ہوں جس نے پہلے شاعری کی اور پھر مقدمہ لکھا۔‘‘ یعنی حالیؔ کی تنقید اس باشعور فن کار کی تنقید ہے جس نے اردو شاعری کو ایک نیا موڑ دیا۔ جو غالبؔ کا معتقد اور میرؔ کا مقلد
سر سید احمد خاں اور ان کے کام
یہ وہ سب سے پہلا مضمون ہے جو سرسید کے کاموں کی تائید اور حمایتیں مولانا حالی نے لکھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا حالی سرسید کے اس وقت سے ساتھ تھے جب کہ انہوں نے ولایت سے واپسی کے بعد ابھی اپنی تعلیمی اور اصلاحی تحریک شروع نہیں کی تھی۔ صرف
حالی کا مرتبہ اردو ادب میں
تاریخ ادب میں حالی کی تین حیثیتیں ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ شاعر تھے اور غزل کے شاعر۔ میں یہ کچھ صرف اس لئے نہیں کہہ رہا ہوں کہ ان کی کلیات کا ایک خاصا جزو غزلیات پر مشتمل ہے، بلکہ اس لئے کہ ایک مخصوص قسم کا تغزل ان کی فطرت کا ایک اہم عنصر تھا اور یہ عنصر
بدگمانی
بدگمانی انسان کی ایک ایسی بد خصلت ہے جس سے اکثر خود بدگمانی کرنے والے کو نیز اس شخص کو جس پر وہ بدگمانی کرتا ہے تھوڑا یا بہت نقصان ضرور پہنچتا ہے۔ اسی واسطے کلام الہی میں ارشاد ہوتا ہے کہ یاایھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم یعنی
زمانہ
جب زمانہ بدلے تم بھی بدل جاؤ۔ زمانہ کی نیرنگیاں مشہور اور اس کی تلون مزاجیاں ضرب المثل ہیں۔ وہ سدا ایک حال پر نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ ایک چال پر نہیں چلتا۔ وہ گرگٹ کی طرح برابر رنگ بدلتا رہتاہے۔ وہ اس پتھر کی طرح جو پہاڑ کی چوٹی سے لڑھکایا جائے، ہزاروں
حالی و شبلی کی معاصرانہ چشمک
جدت موضوع چاہتی تھی کہ جہاں تک ہماری آخری بزم کا تعلق ہے اس لپیٹ میں کوئی چھوٹنے نہ پائے، لیکن افسوس ہے مواد ترکیبی کی کمی نے زیادہ پھیلنے کا موقع نہ دیا اور گو ’’چشمک‘‘ کا دائرہ اطلاقی خالص حالی و شبلی کی شوخیٔ قلم سے آگے نہیں بڑھا لیکن ضمناً اوروں
حالی کا سیاسی شعور
کسی شاعر اور ادیب کے شعور کی جستجو کئی حیثیتوں سے کی جا سکتی ہے کیونکہ شعور کی انفرادیت میں جماعتی ضرورتوں اور خواہشوں سے بہت سے پردے گرتے اور بہت سے اٹھتے ہیں۔ ماحول کی مادی بنیادوں سے لے کر خوابوں کی رنگارنگی تک نہ جانے کتنی منزلیں ہیں، اور ہرمنزل
اخبار نویسی اور اس کے فرائض
ایک شخص نے گدھوں کے سوداگر سے جا کر کہا کہ ’’مجھ کو ایک ایسا گدھا مطلوب ہے جونہ زیادہ چھوٹے قد کا ہو نہ بہت بڑے قد کا۔ جب رستہ صاف ہو تو اچھلتا کودتا چلے اور جب راستے میں بھیڑ ہو تو آہستہ قدم اٹھائے۔ نہ دیوار و در سے اڑتا چلے نہ گنجان درختوں میں
ایام تعطیل میں ایک سفر کی کیفیت
مولانا حالی جب اینگلو عربک اسکول دہلی میں فرسٹ اورینٹل ٹیچر تھے تو موسمی تعطیلات میں جو اس وقت ایک مہینے کی ہوا کرتی تھیں، انہوں نے خاص طور پر ایک تفریحی سفر ریاست الور کا کیا تھا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ تفریح کے لئے خاص الور ہی کو مولانا نے کیوں
حالی اور پیروی مغربی
حالی اب آؤ پیروی مغربی کریں بس اقتدائے مصحفی و میر کرچکے! علامہ سیماب اکبر آبادی، علامہ عبدالماجد دریابادی، فلسفی تم سوفی، علامہ سالک بٹالوی، مدیر انقلاب لاہور، اور اسی قسم کے چند اور علامے کہتے ہیں کہ ہندوستانی یونیورسٹیوں میں اردو فارسی کے پیروفیسر
حالی۔۔۔ ایک انسان
گزشتہ دنوں حیدرآباد میں ’’یوم حالی‘‘ منایا گیا تھا۔ اس میں یہ مقالہ پڑھا گیا۔ ایک ایسی فضا میں پڑھا گیا جب علم و ادب کے بہت سے سوداگر اس اسٹیج پر متمکن تھے! اس تصور کے ساتھ اس مقالہ کو پڑھیے کہ گویا میں بہت سے جھوٹے دیوتاؤں کو شرمندگی کی دعوت دے رہا
مدعیان تہذیب کی بد اعمالیاں
(یہ مضمون مولانا کی مشہور نظم ’’زمزمہ قیصری‘‘ کے ایک طویل فٹ نوٹ کی نقل ہے۔ یہ نظم مولانا نے ۱۸۷۸ء میں لکھی تھی اور ایک انگریزی نظم کاترجمہ ہے۔) انگریزی مؤرخوں اور شاعروں کوجب یہ منظور ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنی رحم دلی اور انسانی ہمدردی پر فریفتہ