امردیپ سنگھ
غزل 25
اشعار 6
وہ صاف گو ہے مگر بات کا ہنر سیکھے
بدن حسیں ہے تو کیا بے لباس آئے گا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
بے فکر رہو یارو میں آج بھی ہوں برباد
دن پھر گئے ہیں میرے افواہ اڑی ہوگی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دماغ و دل کی تھکان والا
کڑا سفر ہے گمان والا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہائے تم تو دل سے ملنے والے تھے
تم نے کب سے ہاتھ ملانا سیکھ لیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
شہر ممکنات میں ہو کے نا امید میں
پھر رہا ہوں در بہ در دل بہت اداس ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے