امردیپ سنگھ کے اشعار
وہ صاف گو ہے مگر بات کا ہنر سیکھے
بدن حسیں ہے تو کیا بے لباس آئے گا
بے فکر رہو یارو میں آج بھی ہوں برباد
دن پھر گئے ہیں میرے افواہ اڑی ہوگی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دماغ و دل کی تھکان والا
کڑا سفر ہے گمان والا
-
موضوع : ذہنی صحت
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہائے تم تو دل سے ملنے والے تھے
تم نے کب سے ہاتھ ملانا سیکھ لیا
شہر ممکنات میں ہو کے نا امید میں
پھر رہا ہوں در بہ در دل بہت اداس ہے
میں ایسے ماہر فن کا مرید ہوں جو مجھے
مرے گمان سے بڑھ کر فریب دیتا ہے
-
موضوع : فریب
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ