امیر الاسلام ہاشمی کے اشعار
وہ لڑکی اب بھی راضی ہے مگر شادی کرے کیسے
کہ اس لڑکی کا جو پوتا ہے وہ راضی نہیں ہوتا
کچھ بھی پیتے نہیں یہ قوم کی یخنی کے سوا
ناشتہ ملت بیضا کا کیا کرتے ہیں
بہت مشکل تھا جن کو ڈھونڈنا میک اپ کے ملبے سے
سو اندازے سے ان کا بانکپن لکھنا پڑا مجھ کو
جنہیں ساڑی میں آنا تھا وہ پتلونوں میں آئیں تھیں
تمیز مرد و زن دشوار تھی کل شب جہاں میں تھا
نہ شاہیں زیر دام آیا تو اس حد تک اتر آئیں
کوئی موچی کوئی دھوبی کوئی حجام آ جائے
وہ چٹکی بھر کے کہتے ہیں سناؤ چٹکلا کوئی
میں چٹکی لے کے کہتا ہوں سنو اشعار چٹکی میں
کسی مس سے جو نادانی میں کچھ مسٹیک ہو جائے
دعا کرتے ہیں نادانی بھی فال نیک ہو جائے
سنا ہے اس کو بہت سے اچکے دیکھتے ہیں
سو ہم بھی دامن تقویٰ جھٹک کے دیکھتے ہیں
-
موضوع : طنز و مزاح