Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ameerul Islam Hashmi's Photo'

امیر الاسلام ہاشمی

1932 - 2013 | کراچی, پاکستان

امیر الاسلام ہاشمی کے اشعار

8
Favorite

باعتبار

وہ لڑکی اب بھی راضی ہے مگر شادی کرے کیسے

کہ اس لڑکی کا جو پوتا ہے وہ راضی نہیں ہوتا

کچھ بھی پیتے نہیں یہ قوم کی یخنی کے سوا

ناشتہ ملت بیضا کا کیا کرتے ہیں

بہت مشکل تھا جن کو ڈھونڈنا میک اپ کے ملبے سے

سو اندازے سے ان کا بانکپن لکھنا پڑا مجھ کو

مری مجبوریوں نے نازکی کا خون کر ڈالا

ہر اک گوبھی بدن کو گل بدن لکھنا پڑا مجھ کو

چھوڑا ہے جب سے پردہ مردا گئی ہے عورت

رد و بدل ہے کیا کیا یہ عرض پھر کروں گا

عرق النسا کا نسخہ مہر النسا نے لکھا

نسخے میں کیا لکھا تھا یہ عرض پھر کروں گا

پتہ مشکل سے چلتا ہے مذکر اور مؤنث کا

کبھی معلوم ہوتا ہے کبھی معلوم ہوتی ہے

جنہیں ساڑی میں آنا تھا وہ پتلونوں میں آئیں تھیں

تمیز مرد و زن دشوار تھی کل شب جہاں میں تھا

ہماری عمر اب ایسی ہے ہم سیٹی نہیں سنتے

رکا کرتے تھے خوش ہو کر کبھی سیٹی بجانے پر

سمجھو ہو کہاں اوروں کو تم اپنے برابر

بس منہ سے مساوات مساوات کرو ہو

بسا اوقات حرمت بھی قلم کی داؤ پر رکھ دی

لٹیروں کو محبان وطن لکھنا پڑا مجھ کو

نہ شاہیں زیر دام آیا تو اس حد تک اتر آئیں

کوئی موچی کوئی دھوبی کوئی حجام آ جائے

اٹھے کہاں بیٹھے کہاں کب آئے گئے کب

بیگم کی طرح تم بھی حسابات کرو ہو

زلیخائیں بضد تھیں ایک یوسف کے لیے یارو

بڑی ہی گرمئ بازار تھی کل شب جہاں میں تھا

جب دیا دل تو بولیں رہنے دو

اس تکلف کی کیا ضرورت ہے

وہ چٹکی بھر کے کہتے ہیں سناؤ چٹکلا کوئی

میں چٹکی لے کے کہتا ہوں سنو اشعار چٹکی میں

رکے جس دم وہ دم لینے تو صدر انجمن بولیں

ہماری نسل آئندہ بھی اب آنے ہی والی ہے

سنا ہے موڈ میں بارہ بجے وہ آتا ہے

سو اس کے موڈ سے پہلے کھسک کے دیکھتے ہیں

کسی مس سے جو نادانی میں کچھ مسٹیک ہو جائے

دعا کرتے ہیں نادانی بھی فال نیک ہو جائے

سنا ہے اس کو بہت سے اچکے دیکھتے ہیں

سو ہم بھی دامن تقویٰ جھٹک کے دیکھتے ہیں

Recitation

بولیے