Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ameerul Islam Hashmi's Photo'

امیر الاسلام ہاشمی

1932 - 2013 | کراچی, پاکستان

امیر الاسلام ہاشمی کے اشعار

3
Favorite

باعتبار

بہت مشکل تھا جن کو ڈھونڈنا میک اپ کے ملبے سے

سو اندازے سے ان کا بانکپن لکھنا پڑا مجھ کو

چھوڑا ہے جب سے پردہ مردا گئی ہے عورت

رد و بدل ہے کیا کیا یہ عرض پھر کروں گا

مری مجبوریوں نے نازکی کا خون کر ڈالا

ہر اک گوبھی بدن کو گل بدن لکھنا پڑا مجھ کو

عرق النسا کا نسخہ مہر النسا نے لکھا

نسخے میں کیا لکھا تھا یہ عرض پھر کروں گا

پتہ مشکل سے چلتا ہے مذکر اور مؤنث کا

کبھی معلوم ہوتا ہے کبھی معلوم ہوتی ہے

ہماری عمر اب ایسی ہے ہم سیٹی نہیں سنتے

رکا کرتے تھے خوش ہو کر کبھی سیٹی بجانے پر

بسا اوقات حرمت بھی قلم کی داؤ پر رکھ دی

لٹیروں کو محبان وطن لکھنا پڑا مجھ کو

کسی مس سے جو نادانی میں کچھ مسٹیک ہو جائے

دعا کرتے ہیں نادانی بھی فال نیک ہو جائے

رکے جس دم وہ دم لینے تو صدر انجمن بولیں

ہماری نسل آئندہ بھی اب آنے ہی والی ہے

سنا ہے موڈ میں بارہ بجے وہ آتا ہے

سو اس کے موڈ سے پہلے کھسک کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کو بہت سے اچکے دیکھتے ہیں

سو ہم بھی دامن تقویٰ جھٹک کے دیکھتے ہیں

Recitation

بولیے