بدر منیر کے اشعار
کچرے سے اٹھائی جو کسی طفل نے روٹی
پھر حلق سے میرے کوئی لقمہ نہیں اترا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جب وصل کا آئے گا ترے ساتھ صنم دن
اس دن کو حقیقت میں کہوں گا میں جنم دن
اس سے بڑھ کر اور کیا ہم پر ستم ہوگا منیرؔ
مشورہ مانگا ہے اس نے فیصلہ کرنے کے بعد
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کنج حیرت سے چلے دشت زیاں تک لائے
کون لا سکتا ہے ہم دل کو جہاں تک لائے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کوئی بھی سر میں نہیں ہے منیرؔ کیا کیجے
یہ زندگی کا ترانہ ریاض مانگتا ہے
چراغ اندر کی سازشوں سے بجھے ہوئے ہیں
اور اس کا الزام بھی ہوا پر چلا گیا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
پڑ جاتے ہیں کتنے چھالے ہاتھوں میں
آتے ہیں پھر چند نوالے ہاتھوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بوڑھے کمزور والدین کے ساتھ
جی رہا ہوں میں کتنے چین کے ساتھ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کیا خبر کون سا رستہ تری جانب نکلے
بے ارادہ بھی کئی بار سفر کرتے ہیں
میں آج تجھ سے ملاقات کرنے آیا ہوں
نئی غزل کی شروعات کرنے آیا ہوں
کہاں سے ہم اپنی گردشوں کا جواز ڈھونڈیں
ہمارا محور زمیں کے محور سے مختلف ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
سپہ سالار کے جب ہاتھ کانپیں تو سپاہی بھی
زیادہ دیر پھر میدان میں ٹھہرا نہیں کرتے
زمیں پہ صرف اتارا نہیں منیرؔ اس نے
پھر اس کے بعد ہمارا خیال بھی رکھا
کرنی پڑ جائے وضاحت پہ وضاحت لیکن
ہم تری بات کی تردید نہیں کر سکتے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جو اہل عشق ہیں دیتے ہیں زور برگر پر
جو اہل حسن ہیں سپنے ڈنر کے دیکھتے ہیں
اگر ہے نیند نہ آنے کا عارضہ تجھ کو
تو بیڈ پہ لیٹ کے فوراً کوئی کتاب اٹھا
اسی لیے تو صحافیوں کو یہ پر تکلف ڈنر دیا ہے
کسی طرف سے نہ کوئی کڑوا سوال ہوگا یہ طے ہوا تھا
پل بھر میں بنا دیتے ہیں باتوں کا بتنگڑ
رہتے ہیں سدا تاک میں احباب ہمارے
پولس کہاں سے ٹپک پڑی ہے کہا یہ ڈاکو نے سٹپٹا کر
مداخلت کا نہ رتی بھر احتمال ہوگا یہ طے ہوا تھا
طے ہو چکی ہے اس سے جدائی مگر منیرؔ
تو اس کے ساتھ لمحۂ انکار تک تو چل
جیون ہے سڑک اور کنارے پہ کھڑے ہیں
لگتا ہے کہ مدت سے اشارے پہ کھڑے ہیں
قوم کے حق میں جو بھی تجاویز تھیں التوا میں رہیں
جن میں ذاتی مفادات تھے ان پہ فوراً عمل ہو گیا
جس منظر کا حصہ تیری ذات نہیں
میری نظر میں اس کی کوئی اوقات نہیں
لڑ رہا ہوں میں اکیلا کارزار ہست میں
کر فراہم تو بھی ظالم اپنے ہونے کا جواز
گو حرف و اشک دونوں تھے سامان گفتگو
پھر بھی ہماری بات میں ابہام رہ گیا
بے چہرہ انسانوں کی اس بستی میں
اچھا ہے آئینے توڑ دئے جائیں