Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

بوم میرٹھی

1888 - 1954 | میرٹھ, انڈیا

طنز و مزاح کے نامور شاعر، بے انتہا مقبول، سادہ اور رواں زبان میں خوبصورت مزاحیہ غزلیں کہیں

طنز و مزاح کے نامور شاعر، بے انتہا مقبول، سادہ اور رواں زبان میں خوبصورت مزاحیہ غزلیں کہیں

بوم میرٹھی کے اشعار

26
Favorite

باعتبار

ان سے چھینکے سے کوئی چیز اتروائی ہے

کام کا کام ہے انگڑائی کی انگڑائی ہے

شمع کچھ پھوکنے کے واسطے گھر پر نہیں جاتی

فدا الو کا پٹھا آ کے خود پروانہ ہوتا ہے

شب وصال میں داڑھی منڈائی کام آئی

لپٹ گئے وہ مجھے نوجواں کے دھوکے میں

بے دھڑک گھر میں ترے غیر چلے آتے ہیں

آنکھیں کیا پھوٹ گئی ہیں ترے دربانوں کی

گیا بچپن شباب آیا بڑھاپا آنے والا ہے

مگر میں تو ابھی تک آپ کو بچہ سمجھتا ہوں

بومؔ صاحب پہ جو آبادی میں پڑتی ہے لتاڑ

راہ لے لیتے ہیں سیدھی وہ بیابانوں کی

ایرے غیرے نہ کہیں حشر میں تم کو لپٹیں

ایک فہرست بنا لیجئے دیوانوں کی

نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوں

اسے الو تمہیں الو کا میں پٹھا سمجھتا ہوں

بوم صاحب کا عجب رنگ نرالا دیکھا

یار یاروں میں ہے اغیار ہے اغیاروں میں

لڑتے ہی پہلی نظر جان تصدق کر دی

ہو گیا ساتھ ہی آغاز کے انجام مرا

بس اب بارہ برس کے ہو گئے ختنہ کرا ڈالو

مسلمانی نہ ہو جس کی مسلماں ہو نہیں سکتا

مخالف پارٹی پچھلے مضامینوں کو روتی ہے

ہماری شاعری کی آج دنیا اور ہی کچھ ہے

پڑیں جوتے ہزاروں سر پہ لیکن میں نہ نکلوں گا

تیرے کوچہ کے ہمسر باغ رضواں ہو نہیں سکتا

جو پوچھا غیر کے گھر کیوں گئے تو فرمایا

پہنچ گئے وہاں تیرے مکاں کے دھوکے میں

اگر دل کو بچاتا میں نہ زلفوں کے اڑنگے سے

تو دنیا بھر سے لمبی شام فرقت اور ہو جاتی

یہ ہستی بھی کچھ ہستی ہے یہ جینا بھی کچھ جینا ہے

دو دن کھانے کو ملتا ہے اور دو دن فاقے ہوتے ہیں

جو چھوٹی موٹی قومیں ہیں دنیا میں مزہ اڑاتی ہیں

جو خاندان کے اچھے ہیں بھٹوں پہ اینٹیں ڈھوتے ہیں

دشمن کی چاپلوسی سے کچھ فائدہ نہیں

سالے کو بےوقوف بنائے ہوئے تو ہوں

غیر جب خلوت سے نکلا دوڑ کر میں نے کہا

دوسرا بھی آپ کا امیدوار آ ہی گیا

لے کے اس شوخ کو آرام سے چھت پر سویا

غیر کو ڈال دیا باندھ کے شہتیر کے ساتھ

خوف بدنامی سے گو اکثر چھپایا جرم کو

لب پر ان کا نام پھر بھی بار بار آ ہی گیا

شراب ناب کی کرتا مذمت پھر نہ بھولے سے

جو مے خانہ میں واعظ کی مرمت اور ہو جاتی

Recitation

بولیے