بوم میرٹھی کے اشعار
ان سے چھینکے سے کوئی چیز اتروائی ہے
کام کا کام ہے انگڑائی کی انگڑائی ہے
شمع کچھ پھوکنے کے واسطے گھر پر نہیں جاتی
فدا الو کا پٹھا آ کے خود پروانہ ہوتا ہے
شب وصال میں داڑھی منڈائی کام آئی
لپٹ گئے وہ مجھے نوجواں کے دھوکے میں
بے دھڑک گھر میں ترے غیر چلے آتے ہیں
آنکھیں کیا پھوٹ گئی ہیں ترے دربانوں کی
بومؔ صاحب پہ جو آبادی میں پڑتی ہے لتاڑ
راہ لے لیتے ہیں سیدھی وہ بیابانوں کی
نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوں
اسے الو تمہیں الو کا میں پٹھا سمجھتا ہوں
جو پوچھا غیر کے گھر کیوں گئے تو فرمایا
پہنچ گئے وہاں تیرے مکاں کے دھوکے میں
یہ ہستی بھی کچھ ہستی ہے یہ جینا بھی کچھ جینا ہے
دو دن کھانے کو ملتا ہے اور دو دن فاقے ہوتے ہیں
جو چھوٹی موٹی قومیں ہیں دنیا میں مزہ اڑاتی ہیں
جو خاندان کے اچھے ہیں بھٹوں پہ اینٹیں ڈھوتے ہیں
خوف بدنامی سے گو اکثر چھپایا جرم کو
لب پر ان کا نام پھر بھی بار بار آ ہی گیا
-
موضوع : طنز و مزاح
شراب ناب کی کرتا مذمت پھر نہ بھولے سے
جو مے خانہ میں واعظ کی مرمت اور ہو جاتی