فیض جھنجھانوی
اشعار 17
تو بحر عشق میں دل کو ہم آغوش تلاطم رکھ
یہ وہ موتی ہے جو پروردۂ ساحل نہیں ہوتا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
وہ اگر شعلہ زن دل ہوں تو حسن التفات
دل اگر شکوہ کن سوز دروں ہو ننگ ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
جب ہوا انجمن گل میں ورود شبنم
مرتسم دل پہ ترا نقش کف پا دیکھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
آؤ غم پرسش کیا میں شکوے سے باز آیا
تم چار قدم پیچھے کیوں ہو صف محشر سے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
سر جمشید کو خشت خم صہبا سے ٹکرا دیں
گدائے مے کدہ بھی کس قدر مغرور ہوتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے