فاطمہ عمران کے طنز و مزاح
یارم فنکار
کافی دنوں بعد جو یارم سے ملاقات ہوئی تو انکے چہرے پر فکر کی پرچھائیں دیکھ کر ہمیں ذرہ برابر فکر نہ ہوئی کہ یارم اکثر ہی خواہ مخواہ کیفیتِ غم طاری کر کے ہمدردی بٹورنے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔ لیکن رسمِ دنیا نبھانے کیلیے پوچھنا ہی پڑا "کیوں یارم خیریت تو
یارم یتیم
اب کی بار جو یارم سے ملاقات ہوئی تو حسب معمول انکی صورت دیکھ کر ہمیں ہول اٹھنے لگا۔ایک تو خدا کی دین ایسی منحوس صورت اور اس پر یارم کا کیفیتِ غم کا خول چڑھانے کی اپنی سی ناکام کوشش۔ بہرحال تعلقِ دوستی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان سے چار و ناچار پوچھنا
کھورنا منع ہے
ہم عورتیں بھی عجیب ہوتی ہیں اگر تیار ہو کر کہیں جائیں اور کوئی گھور رہا ہو تو دل ہی دل میں کہتی ہیں " کمینہ دیکھو تو کیسے گھور رہا ہے۔لگتا ہے کبھی لڑکی نہیں دیکھی۔گھر میں ماں بہن نہیں ہے اسکے" اور اگر کوئی نہ دیکھے تو کہتی ہیں " کمینہ کہیں کا دیکھا تک