حافظ محمود شیرانی کا تعارف
تخلص : 'حافظ محمود شیرانی'
اصلی نام : محمود
پیدائش : 15 Oct 1888 | ٹونک, راجستھان
وفات : 15 Feb 1946 | ٹونک, راجستھان
رشتہ داروں : اختر شیرانی (بیٹا)
شناخت: عظیم محقق، نقاد، ماہرِ مخطوطات اور اردو کی تاریخ و لسانیات کے مستند محقق
حافظ محمود شیرانی اردو ادب کے ایک ایسے بلند پایہ محقق، نقاد اور مورخ تھے جنہوں نے اپنی سائنسی تحقیق کے ذریعے ادب میں رائج کئی غلط نظریات کا طلسم توڑ ڈالا۔ وہ اردو کی ابتدا کے حوالے سے اپنے شہرہ آفاق نظریے 'پنجاب میں اردو' کی بنیاد پر شہرت رکھتے ہیں۔
حافظ محمود شیرانی 15 اکتوبر 1880ء کو ریاست ٹونک (راجستھان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق افغانوں کے شیرانی قبیلے سے تھا، جو غزنوی حملوں کے دوران راجپوتانہ میں آباد ہوئے تھے۔ ان کے اسلاف میں شیخ احمد کھٹو ایک صاحبِ علم بزرگ گزرے ہیں۔ ان کا نام محمود رکھا گیا، عرفیت محمد میکائیل تھی، جبکہ تاریخی نام نظام الدین اسماعیل محمد میاں تھا۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم ٹونک اور جودھ پور سے حاصل کی۔ 1898ء میں مڈل پاس کرنے کے بعد لاہور آ گئے اور شمس العلماء مفتی عبداللہ ٹونکی سے علومِ اسلامیہ کی سند لی۔ نیشنل کالج لاہور سے منشی عالم اور منشی فاضل کے امتحانات امتیاز کے ساتھ پاس کیے۔ 1904ء میں اپنے والد کی خواہش پر قانون کی تعلیم کے لیے انگلستان (لندن) روانہ ہوئے۔
لندن میں انہوں نے قانون کے ساتھ ساتھ زراعت اور فوجی تربیت بھی حاصل کی۔ 1905ء میں رائل ایشیاٹک سوسائٹی کی رکنیت حاصل کی۔ اسی دوران ان کے والد کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے انہیں معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لندن میں پرانی اور نایاب کتابوں کی تجارت (لوزک اینڈ کمپنی کے تعاون سے) شروع کی، جس نے انہیں تحقیق اور قلمی نسخوں کی شناخت کا گہرا شعور عطا کیا۔
1922ء میں وہ اسلامیہ کالج لاہور میں لکچرر مقرر ہوئے اور بعد ازاں اورینٹل کالج لاہور سے بھی وابستہ رہے۔
ان کے تحقیقی مضامین رسالہ 'مخزن' اور 'اردو' میں شائع ہونے لگے۔ انہوں نے شبلی نعمانی کی 'شعر العجم' پر معرکہ آرا تنقید لکھ کر کافی شہرت حاصل کی۔
پنجاب میں اردو (1928ء): یہ ان کی سب سے مشہور کتاب ہے جس میں انہوں نے لسانی بنیادوں پر یہ نظریہ پیش کیا کہ اردو کی داغ بیل پنجاب میں پڑی۔ اس کتاب پر انہیں پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی نے ایک ہزار روپے انعام دیا۔
اہم تصانیف و تالیفات
پنجاب میں اردو: لسانی تحقیق کا شاہکار۔
فردوسی پر چار مقالے: فارسی ادب پر اہم کام۔
مجموعہ نغز: میر قدرت اللہ قاسم کے تذکرے کی تدوین۔
خالق باری: اس کتاب کی حقیقت پر تحقیق۔
تنقیدِ شعر العجم: تاریخی و تحقیقی تصحیح۔
مقالاتِ شیرانی: ان کے متنوع موضوعات پر مشتمل مقالات (مرتبہ مظہر محمود شیرانی)
شیرانی صرف ایک ادیب نہیں بلکہ قدیم اشیاء کے بھی ماہر تھے۔ ان کے پاس نایاب قلمی نسخوں، سکوں، مورتیوں، ہتھیاروں اور قدیم برتنوں کا ایک بڑا ذخیرہ تھا۔ ان کی دلچسپی کے خاص میدان اردو و فارسی زبان و ادب، اسلامی تاریخ، عروض، رسم الخط، مسکوکات اور آثارِ قدیمہ تھے۔
انہیں اردو 'تحقیق کا معلم اول' اور 'بت شکن' قرار دیا جاتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے محض روایت پر یقین کرنے کے بجائے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر تاریخ و ادب کی بڑی بڑی غلطیوں کی اصلاح کی۔ ان کا تحقیقی درجہ قاضی عبدالودود کے ہم پلہ مانا جاتا ہے، تاہم ان کی تحریر کی شگفتگی اور اسلوب کی روانی انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔
وفات: 15 فروری 1946 میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Hafiz_Mehmood_Khan_Shirani