عشرت ناہید کے افسانے
سنگ تراش
وہ ایک ماہر سنگ تراش تھا اور اپنی صناعانہ صفتوں سے معمور انگلیوں سے جب بھی کوئی بت تراشتا تو ایسا لگتا کہ یہ مورت بس ابھی بول پڑیگی اور اس خوبی کا راز صرف یہ تھا کہ وہ مجسمہ سازی کرتے وقت اپنی روح کا کچھ حصہ اس مجسمہ میں منتقل کر دیتا تھا۔ وہ روح جو
گلچیں
آسیہ جسے میں نے اپنے گھر میں کام کے لیے رکھا تھا ایک دم دبلی پتلی سی عورت تھی۔ سن یہی کوئی پچا س کے قریب، مدقوق سا بدن رنگت گوری مگر پھیکی سی۔ نقوش اچھے تھے مگر گال اندر کو دھنسے ہوئے اور آنکھوں کے گرد کے گہرے سیاہ حلقوں نے سب کچھ بد نما سا کر دیا تھا۔
کسک
ثنا کی زندگی خانہ بدوشوں کی طرح تھی کیونکہ اس کے شوہر عامر کی ملازمت ہی ایسی کمپنی میں تھی کہ تبادلہ مستقل ہوتا رہتا تھا وہ کسی شہر میں تین سال سے زائد نہیں رہی تھی۔ یونہی شہر شہر گھومتے ہوئے وہ اس خوبصورت نگر میں آگئی تھی جو اپنی تہذیب کے لیے پہچانا
سہیلی
وہ پچھلے پانچ دن سے بہت پریشان تھی وہ کیا بستی کے سب ہی لوگ پریشان تھے۔ پچھلے سال کی طرح اس بار بھی بارش منہ دھونے کی حد تک کا پانی دے گئی تھی جس کی وجہ سے میونسپلٹی والے بہت کم وقت کے لیے پانی کی سپلائی کرتے تھے اور وہ جس وقت پانی دیتے تھے بجلی بند