لکھنؤ کے شاعر اور ادیب

کل: 412

لکھنؤ کے سب سے گرم مزاج شاعر ، میر تقی میر کے ہم عصر ، مصحفی کے ساتھ چشمک کے لئے مشہور ، انہوں نے ریختی میں بھی شعر کہے اور نثر میں ’رانی کیتکی کی کہانی‘ لکھی

میر انیس

1803 - 1874

لکھنؤ کے ممتاز ترین کلاسیکی شاعروں میں ۔ عظیم مرثیہ نگار

میر حسن

1717 - 1786

مثنوی کے انتہائی مقبول شاعر- 'سحر البیان' کے خالق

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

اٹھارہویں صدی کے بڑے شاعروں میں شامل، میرتقی میر کے ہم عصر

اٹھارہویں صدی کے عظیم شاعروں میں شامل، میر تقی میر کے ہم عصر

بیسوی صدی کی اہم علمی شخصیت، مصنف، مترجم، ناول نگار، ڈرامہ نویس۔ لکھنؤ کی سماجی و تہذیبی زندگی کے رمز شناس

لکھنؤ کے اہم کلاسیکی شاعر، آتش کے شاگرد، شاہی خاندان کے قریب رہے، لکھنؤ پر لکھی اپنی طویل مثنوی ’افسانۂ لکھنؤ‘ کے لیے معروف

معروف سنسکرت عالم، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

معروف ترقی پسند شاعر،رومانی اور انقلابی نظموں کے لیے مشہور،آل انڈیا ریڈیوکے رسالہ آواز کے پہلے مدیر،معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے ماموں

لکھنؤ کے نامور شاعر، مرزا دبیر کے صاحبزادے، علم عروض پر اپنی کتاب’مقیاس الاشعار‘ کے لیے بھی معروف

ناسخ کے شاگرد،مراٹھا حکمراں یشونت رائو ہولکر اور اودھ کے نواب غازی الدین حیدرکی فوج کے سپاہی

مرزا غالب کے ہم عصر، انیسویں صدی کی اردو غزل کا روشن ستارہ

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

پاکستان کے اہم ترین شاعروں میں نمایاں، اپنی تہذیبی رومانیت کے لیے معروف

لکھنو کے ممتاز اور رجحان ساز کلاسیکی شاعر,مرزا غالب کے ہم عصر

اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے نوکلاسیکی لہجے کے لیے معروف

اپنی شاعری میں محبوب کے ساتھ معاملہ بندی کےمضمون کے لیے مشہور،نوجوانی میں بینائی سے محروم ہوگئے

19ویں صدی کے شاعر

اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے بیٹے اور ولی عہد

شہرہ آفاق عشقیہ مثنوی "زہر عشق " کے لیے معروف

مشہور و معروف ناول نگار اور شہر لکھنؤ سے نکلنے والےمشہور ہفت روزہ اودھ پنچ کے مدیر

ممتاز ترین جدید افسانہ نگار ، قدیم لکھنؤ کے ثقافتی تناظر میں اسرار بھری کہانیاں لکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ تنقیدی مضامین اور سوانحی کتابیں بھی تصنیف کیں۔

انیسویں صدی میں لکھنؤ کے ممتاز ترین شاعروں میں شامل، مشہور مثنوی گلزارِ نسیم کے خالق

اردو شاعری کی صنف ’ریختی‘ کے لئے معروف

مترجم ،فکشن نویس اور شاعر،اپنی کتاب فسانہ آزاد کے لیے مشہور

ممتاز قبل از جدید شاعر جنہوں نے نئی غزل کے لئے راہ ہموار کی۔ مرزا غالب کی مخالفت کے لئے مشہور

لکھنؤ کے ممتاز شاعر اور عالم، داغ اور ناطق گلاوٹھی کے شاگرد۔ غالب اور حافظ کے کلام کی شرح و ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی قدیم شاعرات کا تذکرہ بھی مرتب کیا

مزاح کے اہم شاعر، شعرپڑھنے کے مخصوص انداز کے لیے معروف

کئی اخبارات کی ادارت کے فرائض انجام دینے والے ممتاز اردو صحافی

ہنومان پرساد شرما عاجز ماتوی ماہر عروض اور عربی و فارسی کے اسکالر ہیں

قبل از جدید شاعر، نظم اور غزل دونوں اصناف میں طبع آزمائی کی؛ بچوں کے لیے بھی بہترین نظمیں لکھیں

معروف شاعر اور نقاد، اپنی تنقیدی کتاب ’دو ادبی اسکول‘ کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

اپنے ناٹک ’اندرسبھا‘ کے لیے مشہور، اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے ہم عصر

قومی یکجہتی ،مذہبی ایکتا اور جذبہ آزادی سے سرشار شاعری کے لیے معروف، مجاہدآزادی،نو کلاسکی غزل کے شاعر

الہ آباد ہائی کورٹ کے جج تھے۔ لوک سبھا کے رکن بھی رہے

معروف فکشن نویس، شاعر اورناقد؛ لکھنؤ کےثقافتی اورتہذیبی تناظر میں ناول تحریر کیے

اودھ کے نواب

نامورادیب ،دانشور،نقاد،محقق اورشاعر، سابق پروفیسر،چیئرمین اوررجسٹرار کراچی یونیورسٹی

لکھنو کی ممتاز شاعرہ جنھوں نے اپنے اظہار میں نسائی جذبات کو جگہ دی

لکھنو میں کلاسکی غزل کے ممتاز استاد شاعر

ان کی مشہور غزل ’ اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ‘ کو بہت سے گلوکاروں نے آواز دی ہے

ہندوستان میں ہم عصر غزل کے ممتاز شاعر

بولیے