Ambar Bahraichi's Photo'

عنبر بہرائچی

1949 - 2021 | لکھنؤ, انڈیا

معروف سنسکرت عالم، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

معروف سنسکرت عالم، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

عنبر بہرائچی

غزل 18

نظم 10

اشعار 18

یہ سچ ہے رنگ بدلتا تھا وہ ہر اک لمحہ

مگر وہی تو بہت کامیاب چہرا تھا

میرا کرب مری تنہائی کی زینت

میں چہروں کے جنگل کا سناٹا ہوں

باہر سارے میداں جیت چکا تھا وہ

گھر لوٹا تو پل بھر میں ہی ٹوٹا تھا

جانے کیا سوچ کے پھر ان کو رہائی دے دی

ہم نے اب کے بھی پرندوں کو تہہ دام کیا

ہر اک ندی سے کڑی پیاس لے کے وہ گزرا

یہ اور بات کہ وہ خود بھی ایک دریا تھا

کتاب 15

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے