noImage

امداد علی بحر

1810 - 1878 | لکھنؤ, ہندوستان

غزل 87

اشعار 80

آنکھیں نہ جینے دیں گی تری بے وفا مجھے

کیوں کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے

  • شیئر کیجیے

بناوٹ وضع داری میں ہو یا بے ساختہ پن میں

ہمیں انداز وہ بھاتا ہے جس میں کچھ ادا نکلے

  • شیئر کیجیے

میں ہاتھ جوڑتا ہوں بڑی دیر سے حضور

لگ جائیے گلے سے اب انکار ہو چکا

  • شیئر کیجیے

کوثر کا جام اس کو الٰہی نصیب ہو

کوئی شراب میری لحد پر چھڑک گیا

  • شیئر کیجیے

تو خزاں میں جو سیر کو نکلے

ہرے ہو جائیں بے بہار درخت

  • شیئر کیجیے

کتاب 1

ریاض البحر

 

1837

 

متعلقہ شعرا

  • خواجہ محمد وزیر خواجہ محمد وزیر ہم عصر
  • مرزا غالب مرزا غالب ہم عصر
  • وزیر علی صبا لکھنؤی وزیر علی صبا لکھنؤی ہم عصر
  • امام بخش ناسخ امام بخش ناسخ استاد

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

  • مصحفی غلام ہمدانی مصحفی غلام ہمدانی
  • حیدر علی آتش حیدر علی آتش
  • عرفان صدیقی عرفان صدیقی
  • میر انیس میر انیس
  • منور رانا منور رانا
  • خواجہ محمد وزیر خواجہ محمد وزیر
  • اسرار الحق مجاز اسرار الحق مجاز
  • وزیر علی صبا لکھنؤی وزیر علی صبا لکھنؤی
  • ارشد علی خان قلق ارشد علی خان قلق
  • رند لکھنوی رند لکھنوی