وصل میں ذکر غیر کا نہ کرو

امداد علی بحر

وصل میں ذکر غیر کا نہ کرو

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    وصل میں ذکر غیر کا نہ کرو

    خوش کیا ہے تو پھر خفا نہ کرو

    زلفوں پر مجھ کو شیفتہ نہ کرو

    ان بلاؤں میں مبتلا نہ کرو

    میری اتنی تو بات مانو بھلا

    بات اغیار سے کیا نہ کرو

    ملنے دوں گا نہ غیر سے تم کو

    کرو مجھ سے ملاپ یا نہ کرو

    مر بھی جاؤں کہیں یہ روگ مٹے

    اے طبیبوں مری دوا نہ کرو

    منہ چھپانا ہی ہے اگر منظور

    میرے آنکھوں تلے پھرا نہ کرو

    اے گل ان دنوں روؤ گے

    کھلکھلا کر بہت ہنسا نہ کرو

    بوسہ لینے دو کچھ تو ہو تقصیر

    ہدف تیر بے خطا نہ کرو

    جان صدقے کروں جو قدر کرو

    دل تمہیں دوں اگر دغا نہ کرو

    کبھی فریادتاً سنو میری

    کون کہتا ہے تم جفا نہ کرو

    غیر پر کیوں نگاہ کرتے ہو

    مجھ کو اس تیر کا نشانہ کرو

    دو گھڑی کے لیے ہم آئے ہیں

    تلخ باتوں سے بے مزا نہ کرو

    ایک پرزے پہ لکھ کے یہ دو حرف

    دوستو یار کو روانہ کرو

    جلد آؤ کہ دم نکلتا ہے

    مجھ کو پیٹو اگر بہانہ کرو

    بحرؔ شاکر رہو مقدر پر

    کس و ناکس سے التجا نہ کرو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY