noImage

امداد علی بحر

1810 - 1878 | لکھنؤ, ہندوستان

808
Favorite

باعتبار

آنکھیں نہ جینے دیں گی تری بے وفا مجھے

کیوں کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے

بناوٹ وضع داری میں ہو یا بے ساختہ پن میں

ہمیں انداز وہ بھاتا ہے جس میں کچھ ادا نکلے

میں ہاتھ جوڑتا ہوں بڑی دیر سے حضور

لگ جائیے گلے سے اب انکار ہو چکا

کوثر کا جام اس کو الٰہی نصیب ہو

کوئی شراب میری لحد پر چھڑک گیا

ہم نہ کہتے تھے ہنسی اچھی نہیں

آ گئی آخر رکاوٹ دیکھیے

تو خزاں میں جو سیر کو نکلے

ہرے ہو جائیں بے بہار درخت

بالوں میں بل ہے آنکھ میں سرمہ ہے منہ میں پان

گھر سے نکل کے پاؤں نکالے نکل چلے

جان صدقے ایک بوسے پر کریں گے عمر بھر

دیکھ لو منہ سے ملا کر منہ ہمارا جھوٹ سچ

یار تک لے نہ گئے اشک بہا کر ہم کو

اس کو بھی دیکھ لیا دیدۂ تر کچھ بھی نہیں

قاضی کو جو رند کچھ چٹا دیں

مسجد کی بغل میں مے کدہ ہو

امیر شال دو شالوں میں گرم راحت و عیش

غریب کے لیے جاڑوں میں زندگانی دھوپ

نہ محبت ہے دلوں میں نہ حیا آنکھوں میں

یہ صنم تو نے بنائے ہیں خدایا کیسے

میرا لہو چٹائے گا جب تک نہ تیغ کو

قاتل کو دہنے ہاتھ سے کھانا حرام ہے

دکھایا اس نے بن ٹھن کر وہ جلوہ اپنی صورت کا

کہ پانی پھر گیا آئینے پر دریاے حیرت کا

کسی نے کعبہ بنایا کسی نے بت خانہ

بنا نہ ایک گھروندا تمہارے گھر کی طرح

مجھ کو رونے تو دو دکھا دوں گا

بلبلا ہے یہ آسمان نہیں

جوتا نیا پہن کے وہ پنجوں کے بل چلے

کپڑے بدل کے جامے سے باہر نکل چلے

قتل پر بیڑا اٹھا کر تیغ کیا باندھوگے تم

لو خبر اپنی دہن گم ہے کمر ملتی نہیں

چوٹی گندھوائی ہوئی یار نے کھلوا ڈالی

رحم آیا کوئی محبوس رسن یاد آیا

پوچھے رندوں سے کوئی ان مفتیوں کا جھوٹ سچ

دو دلیلوں سے یہ کر لیتے ہیں دعویٰ جھوٹ سچ

کیا خبر تھی صبح ہو جائے گی تیرے نور سے

شام سے میرا چراغ خانہ رخصت مانگتا

دیوانگی میں پھینک رہے تھے جو ہم لباس

اتری قبا بخار بدن سے اتر گیا

کوئی حرم کو گیا کوئی دیر کو اے بحرؔ

ہزار شکر نہ میں اس دوراہے میں بھٹکا

زاہد سناؤں وصف جو اپنی شراب کے

پڑھنے لگیں درود فرشتے ثواب کے

عاشق سے ناک بھوں نہ چڑھا او کتاب رو

ہم درس عشق میں یہ الف بھی پڑھے نہیں

ظالم ہماری آج کی یہ بات یاد رکھ

اتنا بھی دل جلوں کا ستانا بھلا نہیں

خواہش دیدار میں آنکھیں بھی ہیں میری رقیب

سات پردوں میں چھپا رکھا ہے اس کے نور کو

کافر عشق ہوں میں سب سے محبت ہے مجھے

ایک بت کیا کہ سمایا ہے کلیسا دل میں

نامہ کیا یار کو پہنچایا کہ معراج ہوئی

عرش پر بیٹھ کے گونجے گا کبوتر اپنا

جا جا کے مسجدوں میں بھرے طاق بھی بہت

اس بت کی بارگہہ میں نہ پہنچا کسی طرح

ہر طرح ہم دل نا فہم کو سمجھا لیں گے

داغ موجود ہیں پھولوں کو خزاں ہونے دو

انگلیاں تو نے جو اے رشک چمن چٹکائیں

مجھ کو غنچوں کے چٹکنے کی صدائیں آئیں

بھٹک کے کوئی گیا دیر کو کوئی کعبے

عجیب بھول بھلیاں ہے مرحلہ دل کا

نہ نکلے گا دل اس کے گیسو میں پھنس کر

یہ کالا کبھی من اگلتا نہیں ہے

یار کو دیکھتے ہی مر گئے اے بحرؔ افسوس

خاک میری کوئی آنکھوں میں قضا کی جھونکے

پیار کی آنکھ سے دشمن کو بھی جو دیکھتے ہیں

ہم نے ایسے بھی ہیں اللہ کے پیارے دیکھے

خوب چلتی ہے ناؤ کاغذ کی

گھر میں قاضی کے مال آتا ہے

ابر بہار اب بھی جچتا نہیں نظر میں

کچھ آنسوؤں کے قطرے اب بھی ہیں چشم تر میں

بے طرح دل میں بھرا رہتا ہے زلفوں کا دھواں

دم نکل جائے کسی روز نہ گھٹ کر اپنا

واعظو ہم رند کیوں کر کابل جنت نہیں

کیا گنہ گاروں کو میراث پدر ملتی نہیں

مرے بغیر نہ اک دم اسے قرار آتا

ذرا بھی ضبط جو مجھ بے قرار میں ہوتا

مختار ہیں وہ لکھیں نہ لکھیں جواب خط

صاحب کو روز اپنا عریضہ رپورٹ ہے

شب وصلت تو جاتے جاتے اندھا کر گئی مجھ کو

تم اب بہرا کرو صاحب سنا کر نام رخصت کا

ہڈیاں میری اگر پائیں تو کوڑے کی طرح

پھینک دیں اہل زمیں چرخ کہن سے باہر

اڑ گئی ٹوپی بھی سر کے جب چلی باد وبال

تاج شہ کو مورچھل آندھی کا جھونکا ہو گیا

زاہدو دعوت رنداں ہے شراب اور کباب

کبھی میخانے میں بھی روزہ کشائی ہو جائے

ہے نگینہ ہر ایک عضو بدن

تم کو کیا احتیاج زیور کی

غیر پر کیوں نگاہ کرتے ہو

مجھ کو اس تیر کا نشانہ کرو

مرے قتل پر تم نے بیڑا اٹھایا

مرے ہاتھ کا پان کھایا تو ہوتا

میرے سر پر مری آنکھوں پہ سلام واعظ

پر مرے کان سنیں گے نہ کلام واعظ