noImage

امداد علی بحر

1810 - 1878 | لکھنؤ, ہندوستان

692
Favorite

باعتبار

آنکھیں نہ جینے دیں گی تری بے وفا مجھے

کیوں کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے

بناوٹ وضع داری میں ہو یا بے ساختہ پن میں

ہمیں انداز وہ بھاتا ہے جس میں کچھ ادا نکلے

میں ہاتھ جوڑتا ہوں بڑی دیر سے حضور

لگ جائیے گلے سے اب انکار ہو چکا

کوثر کا جام اس کو الٰہی نصیب ہو

کوئی شراب میری لحد پر چھڑک گیا

بالوں میں بل ہے آنکھ میں سرمہ ہے منہ میں پان

گھر سے نکل کے پاؤں نکالے نکل چلے

ہم نہ کہتے تھے ہنسی اچھی نہیں

آ گئی آخر رکاوٹ دیکھیے

تو خزاں میں جو سیر کو نکلے

ہرے ہو جائیں بے بہار درخت

یار تک لے نہ گئے اشک بہا کر ہم کو

اس کو بھی دیکھ لیا دیدۂ تر کچھ بھی نہیں

میرا لہو چٹائے گا جب تک نہ تیغ کو

قاتل کو دہنے ہاتھ سے کھانا حرام ہے

قاضی کو جو رند کچھ چٹا دیں

مسجد کی بغل میں مے کدہ ہو

کسی نے کعبہ بنایا کسی نے بت خانہ

بنا نہ ایک گھروندا تمہارے گھر کی طرح

قتل پر بیڑا اٹھا کر تیغ کیا باندھوگے تم

لو خبر اپنی دہن گم ہے کمر ملتی نہیں

جان صدقے ایک بوسے پر کریں گے عمر بھر

دیکھ لو منہ سے ملا کر منہ ہمارا جھوٹ سچ

مجھ کو رونے تو دو دکھا دوں گا

بلبلا ہے یہ آسمان نہیں

دکھایا اس نے بن ٹھن کر وہ جلوہ اپنی صورت کا

کہ پانی پھر گیا آئینے پر دریاے حیرت کا

امیر شال دو شالوں میں گرم راحت و عیش

غریب کے لیے جاڑوں میں زندگانی دھوپ

جوتا نیا پہن کے وہ پنجوں کے بل چلے

کپڑے بدل کے جامے سے باہر نکل چلے

چوٹی گندھوائی ہوئی یار نے کھلوا ڈالی

رحم آیا کوئی محبوس رسن یاد آیا

نہ محبت ہے دلوں میں نہ حیا آنکھوں میں

یہ صنم تو نے بنائے ہیں خدایا کیسے

پوچھے رندوں سے کوئی ان مفتیوں کا جھوٹ سچ

دو دلیلوں سے یہ کر لیتے ہیں دعویٰ جھوٹ سچ

زاہد سناؤں وصف جو اپنی شراب کے

پڑھنے لگیں درود فرشتے ثواب کے

کوئی حرم کو گیا کوئی دیر کو اے بحرؔ

ہزار شکر نہ میں اس دوراہے میں بھٹکا

دیوانگی میں پھینک رہے تھے جو ہم لباس

اتری قبا بخار بدن سے اتر گیا

انگلیاں تو نے جو اے رشک چمن چٹکائیں

مجھ کو غنچوں کے چٹکنے کی صدائیں آئیں

کیا خبر تھی صبح ہو جائے گی تیرے نور سے

شام سے میرا چراغ خانہ رخصت مانگتا

جا جا کے مسجدوں میں بھرے طاق بھی بہت

اس بت کی بارگہہ میں نہ پہنچا کسی طرح

نامہ کیا یار کو پہنچایا کہ معراج ہوئی

عرش پر بیٹھ کے گونجے گا کبوتر اپنا

ہر طرح ہم دل نا فہم کو سمجھا لیں گے

داغ موجود ہیں پھولوں کو خزاں ہونے دو

عاشق سے ناک بھوں نہ چڑھا او کتاب رو

ہم درس عشق میں یہ الف بھی پڑھے نہیں

خوب چلتی ہے ناؤ کاغذ کی

گھر میں قاضی کے مال آتا ہے

بھٹک کے کوئی گیا دیر کو کوئی کعبے

عجیب بھول بھلیاں ہے مرحلہ دل کا

نہ نکلے گا دل اس کے گیسو میں پھنس کر

یہ کالا کبھی من اگلتا نہیں ہے

ابر بہار اب بھی جچتا نہیں نظر میں

کچھ آنسوؤں کے قطرے اب بھی ہیں چشم تر میں

مرے بغیر نہ اک دم اسے قرار آتا

ذرا بھی ضبط جو مجھ بے قرار میں ہوتا

کافر عشق ہوں میں سب سے محبت ہے مجھے

ایک بت کیا کہ سمایا ہے کلیسا دل میں

شب وصلت تو جاتے جاتے اندھا کر گئی مجھ کو

تم اب بہرا کرو صاحب سنا کر نام رخصت کا

بے طرح دل میں بھرا رہتا ہے زلفوں کا دھواں

دم نکل جائے کسی روز نہ گھٹ کر اپنا

ہڈیاں میری اگر پائیں تو کوڑے کی طرح

پھینک دیں اہل زمیں چرخ کہن سے باہر

پیار کی آنکھ سے دشمن کو بھی جو دیکھتے ہیں

ہم نے ایسے بھی ہیں اللہ کے پیارے دیکھے

یار کو دیکھتے ہی مر گئے اے بحرؔ افسوس

خاک میری کوئی آنکھوں میں قضا کی جھونکے

اڑ گئی ٹوپی بھی سر کے جب چلی باد وبال

تاج شہ کو مورچھل آندھی کا جھونکا ہو گیا

مختار ہیں وہ لکھیں نہ لکھیں جواب خط

صاحب کو روز اپنا عریضہ رپورٹ ہے

ظالم ہماری آج کی یہ بات یاد رکھ

اتنا بھی دل جلوں کا ستانا بھلا نہیں

خواہش دیدار میں آنکھیں بھی ہیں میری رقیب

سات پردوں میں چھپا رکھا ہے اس کے نور کو

واعظو ہم رند کیوں کر کابل جنت نہیں

کیا گنہ گاروں کو میراث پدر ملتی نہیں

غیر پر کیوں نگاہ کرتے ہو

مجھ کو اس تیر کا نشانہ کرو

زاہدو دعوت رنداں ہے شراب اور کباب

کبھی میخانے میں بھی روزہ کشائی ہو جائے

ہے نگینہ ہر ایک عضو بدن

تم کو کیا احتیاج زیور کی

مرے قتل پر تم نے بیڑا اٹھایا

مرے ہاتھ کا پان کھایا تو ہوتا

سو فساد ایک عشق میں اٹھے

بویا اک تخم اگے ہزار درخت