بد طالعی کا علاج کیا ہو

امداد علی بحر

بد طالعی کا علاج کیا ہو

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    بد طالعی کا علاج کیا ہو

    آزار بھی ہو تو لا دوا ہو

    آئینے کی شکل خود نمائی ہو

    بے دید ہو صورت آشنا ہو

    حسن نمکین کو لے کے چاٹیں

    جب اپنی ہی زیست بے مزا ہو

    اے درد فراق کے مریضوں

    گھرا لگے اس طرح کراہو

    محرم کے جو بند کھول دے یار

    بنگلہ مرے حق میں دل کشا ہو

    کیا ہے مجھے دیتے ہو گلوری

    چونے میں کہیں نہ سنکھیا ہو

    دیکھے نہ مژہ کی سوزن ایسے

    سے وے جو کسی کا دل پھٹا ہو

    قاضی کو جو رند کچھ چٹا دیں

    مسجد کی بغل میں مے کدہ ہو

    پایا نہ مزاج مر مٹے ہم

    کیا جانیے کس کے آشنا ہو

    مغرور ہو اپنے حسن پر یار

    کیا غم کوئی خوش ہو یا خفا ہو

    یار آئے جو میرے گھر مراد آئے

    جاگیں جو نصیب رت جگا ہو

    سائے سے تمہارے بچ کے چلیے

    دیوانہ بنانے کو بلا ہو

    مشعل نہ سواری میں رہے سانہ

    گھوڑا نہ کہیں چراغ پا ہو

    وہ چال چلو کہ دل ہو تسخیر

    حب کا تعویذ نقش پا ہو

    چاہوں جو فلک سے فرش ماتم

    ٹوٹا بھی نہ گہر میں نہ بوریا ہو

    پھر میری طرف پھرا وہ قاتل

    تسمہ نہ کہیں لگا رہا ہو

    جو ایک کہو گے دو سنو گے

    پرواہ نہیں خوش ہو یا خفا ہو

    ممتاز ہیں کشتگان معشوق

    ہے عین کرم اگر جفا ہو

    وہ میری جو بوٹیاں اڑائیں

    جرجیس کا مرتبہ عطا ہو

    دم نکلے ہجوم غم میں کیوں کر

    کچھ بھیڑ چھٹے تو راستہ ہو

    دنیا سے اٹھے مریض فرقت

    اے دار مسیح تو عصا ہو

    سبزے میں چہ ذقن ہے خس پوش

    ایسا نہ ہو خضر سے دغا ہو

    ہم زخم جگر نہیں دکھاتے

    آنکھیں نہ چراؤ خوش نگاہو

    پیش آؤ ہر اک سے آئینہ دار

    بیگانہ ہو یا کہ آشنا ہو

    سیکھو یہ طریق آدمیت

    جو چال چلو اسے نباہو

    تلوار ابرو کی وہ خریدی

    جو مفت سر اپنا بیچتا ہو

    چمکے جو ستارۂ بلندی

    طاؤس فلک مجھے ہما ہو

    اے بحرؔ نہیں ہے ان تلون تیل

    مفتوں نہ کسی کے خال کا ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY