میں سیہ رو اپنے خالق سے جو نعمت مانگتا

امداد علی بحر

میں سیہ رو اپنے خالق سے جو نعمت مانگتا

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    میں سیہ رو اپنے خالق سے جو نعمت مانگتا

    اپنا منہ دھونے کو پہلے آب خجلت مانگتا

    میرے روکھے سوکھے ٹکڑے مجھ کو کر دیتے ہیں سیر

    خاک بھر دیتا فلک منہ میں جو نعمت مانگتا

    خلق پر ہوتی جو آداب شہادت آشکار

    مرغ بسمل بھی تڑپنے کی اجازت مانگتا

    رحم ہم آفت‌ رسیدوں پر جو کرتا آسمان

    سانس لینے کی ہجوم غم میں مہلت مانگتا

    رولتا موتی جو کرتا کشتکاری خیر کی

    ہن برستا میں اگر باران رحمت مانگتا

    پست بختی نے مجھے محفوظ رکھا شکر ہے

    ٹوٹ پڑتا آسماں سر پر جو رفعت مانگتا

    قدر میرے گوہر دل کی کچھ اس بت نے نہ کی

    بت کدہ لیلام ہوتا میں جو قیمت مانگتا

    ایک بوسہ مانگنے پر یار کا رخ پھر گیا

    جان میں دیتا اگر وہ بے مروت مانگتا

    میں اگر آزادگی میں سرو کو کرتا مرید

    تیرا گلدستہ سا قد طوبیٰ سے بیعت مانگتا

    دیکھ پاتا کشتگان‌ عشق کا رتبہ اگر

    پانی پی پی کر خضر جام شہادت مانگتا

    دل میں پڑتے زخم اگر گلزار کی کرتا ہوس

    میں لہو روتا اگر باران رحمت مانگتا

    کب رہا سیماب جب سیماب چاندی ہو گیا

    قلب ماہیت مری ہوتی جو دولت مانگتا

    کیا خبر تھی صبح ہو جائے گی تیرے نور سے

    شام سے میرا چراغ خانہ رخصت مانگتا

    آنکھ جھک جاتی نظر آتا اگر تو خواب میں

    تیرے خال رخ سے یوسف داغ حسرت مانگتا

    کھائیے کیوں کر نوالے موتیوں کے اے ہوس

    طائر دل ہنس کی اے کاش قسمت مانگتا

    جوش وحشت لے چلا اتنی نہ مہلت دے مجھے

    کوہ و صحرا کے عزیزوں سے تو رخصت مانگتا

    دشمنی رکھتا ہے ارباب منش سے آسماں

    ہاتھ ملتا عمر بھر دم بھر جو راحت مانگتا

    بے دیے ممکن نہیں دنیا میں ہو اجرائے‌ کار

    عاملوں سے اسم اعظم بھی ہے دعوت مانگتا

    خون عاشق پر کمر باندھے ہوئے ہیں خوبرو

    تیغ مصری حلق پر ہوتی جو شربت مانگتا

    کیا خبر تھی عاصیوں کی بھی دعا مقبول ہے

    بحرؔ دنیا کے بکھیڑے سے فراغت مانگتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY