آج پھر دھوپ کی شدت نے بڑا کام کیا

عنبر بہرائچی

آج پھر دھوپ کی شدت نے بڑا کام کیا

عنبر بہرائچی

MORE BYعنبر بہرائچی

    آج پھر دھوپ کی شدت نے بڑا کام کیا

    ہم نے اس دشت کو لمحوں میں کنول فام کیا

    میرے حجرے کو بھی تشہیر ملی اس کے سبب

    اور آندھی نے بھی اس بار بہت نام کیا

    روز ہم جلتی ہوئی ریت پہ چلتے ہی نہ تھے

    ہم نے سائے میں کجھوروں کے بھی آرام کیا

    دل کی بانہوں میں سجاتے رہے آہوں کی دھنک

    ذہن کو ہم نے رہ عشق میں گم نام کیا

    شہر میں رہ کے یہ جنگل کی ادا بھول گئے

    ہم نے ان شوخ غزالوں کو عبث رام کیا

    اپنے پیروں میں بھی بجلی کی ادائیں تھیں مگر

    دیکھ کر طور جہاں خود کو سبک گام کیا

    شاہراہوں پہ ہمیں تو نہیں مصلوب ہوئے

    قتل مہتاب نے خود کو بھی لب بام کیا

    جانے کیا سوچ کے پھر ان کو رہائی دے دی

    ہم نے اب کے بھی پرندوں کو تہہ دام کیا

    ختم ہو گی یہ کڑی دھوپ بھی عنبرؔ دیکھو

    ایک کہسار کو موسم نے گل اندام کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY