جمیل عظیم آبادی کے اشعار
جنگل جنگل آگ لگی ہے دریا دریا پانی ہے
نگری نگری تھاہ نہیں ہے لوگ بہت گھبرائے ہیں
کنج قفس ہی جس کا مقدر ہوا جمیلؔ
اس کی نظر میں دور خزاں کیا بہار کیا
صبر کی آنچ سے پتھر بھی پگھل جاتا ہے
بت بنے آج وہ بیٹھے ہیں سرہانے میرے
مری تقدیر میں شاید کوئی تعبیر نہیں
رہ گئے یوں ہی دھرے خواب سہانے میرے
-
موضوع : خواب
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جھوٹ کا ڈنکا بجتا تھا جس وقت جمیلؔ اس نگری میں
ہر رستے ہر موڑ پہ ہم نے سچ کے علم لہرائے ہیں
-
موضوع : جھوٹ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ