Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Jitendra Mohan Sinha Rahbar's Photo'

جتیندر موہن سنہا رہبر

1911 - 1993 | لکھنؤ, انڈیا

معروف شاعر، استاد، ادیب اور مجاہدِ آزادی، گاندھیائی نظریات کے پُرجوش پیروکار

معروف شاعر، استاد، ادیب اور مجاہدِ آزادی، گاندھیائی نظریات کے پُرجوش پیروکار

جتیندر موہن سنہا رہبر کا تعارف

تخلص : 'رہبر'

اصلی نام : جتیندر موہن سنہا

پیدائش : 24 Sep 1911 | بجنور, اتر پردیش

وفات : 12 Aug 1993

جتیندر موہن سنہا رہبر (1911ء–1993ء) استاد، شاعر، ادیب اور مجاہدِ آزادی تھے۔ ان کا اصل نام جتیندر موہن سنہا تھا۔ وہ 24 ستمبر 1911ء کو بجنور، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ گاندھیائی فلسفے کے پُرجوش پیروکار ہونے کے باعث انھوں نے قانون کا پیشہ ترک کرکے تحریکِ آزادی میں حصہ لیا۔ 1930ء میں انھیں قید بھی کیا گیا۔ بعد ازاں انھوں نے نیشنل کالج، لکھنؤ میں انگریزی ادب کے استاد کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں۔

رہبر نے اپنی 82 سالہ زندگی میں سیاسی اور سماجی موضوعات پر نثر و نظم میں کثرت سے اظہارِ خیال کیا۔ ہندی، انگریزی، سنسکرت، اردو اور فارسی زبانوں پر عبور رکھنے کے باوجود انھوں نے شاعری کے لیے اردو زبان کا انتخاب کیا۔ ان کی شاعری میں گہرے خیالات، جرأت، دیانت داری اور پختہ نظریات کی عکاسی ملتی ہے۔ ان کا کلام اپنے عہد اور ذاتی افکار کا سچا ترجمان ہے۔

رہبر ایک گہری روحانی شخصیت کے مالک بھی تھے۔ انھوں نے انسان اور خدا کے باہمی رشتے اور اس یقین کو اپنی شاعری میں نہایت اپنائیت سے بیان کیا کہ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ان کی شاعری میں آفاقی پیغام، نیکی، مہربانی اور سچائی پر ایک معصومانہ یقین نمایاں ہے۔ 12 اگست 1993ء کو ان کا انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے