کاشف سید
غزل 18
اشعار 15
راستے بھر مری ہم سفری کا دم بھرتے رہے
اپنی منزل پہ پہنچتے ہی پرائے ہوئے لوگ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
وہ دیواروں میں چنوانے کا منظر اب نہیں دکھتا
محبت پر مگر بندش جو پہلے تھی سو اب بھی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
مفلسی تھی اور ہم تھے گھر کے اکلوتے چراغ
ورنہ ایسی روشنی کرتے کے دنیا دیکھتی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
راجا کا بیٹا راجا نہیں بنتا بنتے ہم
بس اس لئے کہانی میں مارا گیا ہمیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
سرد مہری آپ کی رشتے میں حائل ہو گئی
ورنہ ہم وہ عاشقی کرتے کے دنیا دیکھتی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
قطعہ 9
ویڈیو 5
This video is playing from YouTube