کاشف سید کے اشعار
راستے بھر مری ہم سفری کا دم بھرتے رہے
اپنی منزل پہ پہنچتے ہی پرائے ہوئے لوگ
وہ دیواروں میں چنوانے کا منظر اب نہیں دکھتا
محبت پر مگر بندش جو پہلے تھی سو اب بھی ہے
-
موضوع : قید
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مفلسی تھی اور ہم تھے گھر کے اکلوتے چراغ
ورنہ ایسی روشنی کرتے کے دنیا دیکھتی
-
موضوع : چراغ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
سرد مہری آپ کی رشتے میں حائل ہو گئی
ورنہ ہم وہ عاشقی کرتے کے دنیا دیکھتی
-
موضوع : عشق
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
راجا کا بیٹا راجا نہیں بنتا بنتے ہم
بس اس لئے کہانی میں مارا گیا ہمیں
-
موضوع : ظلم
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ایسا نہ ہو کہ دوستی بھی جائے ہاتھ سے
ہم ہاتھ میں گلاب لئے سوچتے رہے
ذرا سا وقت جو بدلا تو ہم پہ ہنسنے لگے
ہمارے کاندھے پہ سر رکھ کے رونے والے لوگ
یہی اک بات اب دونوں کی پیشانی پہ لکھی ہے
مجھے تیری ضرورت ہے مجھے تیری ضرورت ہے
-
موضوع : عشق
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اس پرائے شہر میں اے کاش کوئی یہ کہے
رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھانا ہے تمہیں
ہم جون ایلیاؔ کے زمانے میں دوستو
غالبؔ کا انتخاب لئے سوچتے رہے
لوگ ہم سے سیکھتے ہیں غم چھپانے کا ہنر
آؤ تم کو بھی سکھا دیں مسکرانے کا ہنر
ہجرتوں کے کرب کو ایسے چھپانا ہے تمہیں
کوئی جب بھی حال پوچھے مسکرانا ہے تمہیں
شکستہ ناؤ سمجھ کر ڈبونے والے لوگ
نہ پا سکے مجھے ساحل پہ کھونے والے لوگ
آنکھوں میں اپنی خواب لئے سوچتے رہے
جیسے کوئی کتاب لئے سوچتے رہے