Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Kashif Syed's Photo'

کاشف سید

1987 | بھیونڈی, انڈیا

مشہور نوجوان شاعروں میں شامل، شعروں میں سادگی پائی جاتی ہے

مشہور نوجوان شاعروں میں شامل، شعروں میں سادگی پائی جاتی ہے

کاشف سید کے اشعار

103
Favorite

باعتبار

راستے بھر مری ہم سفری کا دم بھرتے رہے

اپنی منزل پہ پہنچتے ہی پرائے ہوئے لوگ

وہ دیواروں میں چنوانے کا منظر اب نہیں دکھتا

محبت پر مگر بندش جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

مفلسی تھی اور ہم تھے گھر کے اکلوتے چراغ

ورنہ ایسی روشنی کرتے کے دنیا دیکھتی

سرد مہری آپ کی رشتے میں حائل ہو گئی

ورنہ ہم وہ عاشقی کرتے کے دنیا دیکھتی

راجا کا بیٹا راجا نہیں بنتا بنتے ہم

بس اس لئے کہانی میں مارا گیا ہمیں

ایسا نہ ہو کہ دوستی بھی جائے ہاتھ سے

ہم ہاتھ میں گلاب لئے سوچتے رہے

ذرا سا وقت جو بدلا تو ہم پہ ہنسنے لگے

ہمارے کاندھے پہ سر رکھ کے رونے والے لوگ

یہی اک بات اب دونوں کی پیشانی پہ لکھی ہے

مجھے تیری ضرورت ہے مجھے تیری ضرورت ہے

اس پرائے شہر میں اے کاش کوئی یہ کہے

رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھانا ہے تمہیں

ہم جون ایلیاؔ کے زمانے میں دوستو

غالبؔ کا انتخاب لئے سوچتے رہے

لوگ ہم سے سیکھتے ہیں غم چھپانے کا ہنر

آؤ تم کو بھی سکھا دیں مسکرانے کا ہنر

ہجرتوں کے کرب کو ایسے چھپانا ہے تمہیں

کوئی جب بھی حال پوچھے مسکرانا ہے تمہیں

شکستہ ناؤ سمجھ کر ڈبونے والے لوگ

نہ پا سکے مجھے ساحل پہ کھونے والے لوگ

آنکھوں میں اپنی خواب لئے سوچتے رہے

جیسے کوئی کتاب لئے سوچتے رہے

کیا غضب ہے تجربے کی بھینٹ تم ہی چڑھ گئے

تم سے ہی سیکھا تھا ہم نے دل دکھانے کا ہنر

Recitation

بولیے