Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Kausar Mazhari's Photo'

کوثر مظہری

1964 | دلی, انڈیا

مابعد جدید عہد کے اہم ناقدین میں شامل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو سے وابستہ۔

مابعد جدید عہد کے اہم ناقدین میں شامل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو سے وابستہ۔

کوثر مظہری کا تعارف

تخلص : 'کوثر'

اصلی نام : محمد احسان الحق

پیدائش : 05 Aug 1964 | مشرقی چمپارن, بہار

رشتہ داروں : جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی (تعلیمی ادارہ)

LCCN :no2001070818

بوجھ دل پر ہے ندامت کا تو ایسا کر لو

میرے سینے سے کسی اور بہانے لگ جاؤ

شناخت:پروفیسر کوثر مظہری (اصلی نام: محمد احسان الحق) ایک ممتاز ادیب، محقق اور نقاد ہیں، جو 5 اگست 1964ء کو چندن بارا (ضلع مشرقی چمپارن، بہار) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے سرکاری اسکول سے حاصل کی اور مولانا آزاد ہائی اسکول، خیراوا سے میٹرک کیا۔ بعد ازاں ایم۔ ایس۔ کالج، موتیہاری سے 1984ء میں نباتیات (آنرز) اور ذیلی مضامین کے طور پر حیوانیات و کیمیا کے ساتھ گریجویشن مکمل کی۔

بچپن ہی سے ادب سے گہری دل چسپی رہی۔ اردو شاعری سے شغف نے انہیں زبان و ادب کی طرف متوجہ کیا، چنانچہ اردو میں گریجویشن اور پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ بعد ازاں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شميم حنفی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔

1997ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو سے تدریسی وابستگی اختیار کی اور 1998ء میں مستقل تقرری ہوئی۔ اس وقت وہ بحیثیت پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اردو نظم اور ادبی تنقید ان کا خاص میدان ہے۔

ان کی نمایاں تصانیف میں جواز و انتخاب، جدید نظم: حالی سے میراجی تک، جرأتِ افکار، بازدید اور تبصرے، قرأت اور مکالمہ، فائز دہلوی، شیخ محمد ابراہیم ذوق کے علاوہ ناول آنکھ جو سوچتی ہے اور مجموعۂ کلام ماضی کا آئینہ شامل ہیں۔

علمی دیانت، فکری سنجیدگی اور سادہ و موثر اسلوب ان کی تحریروں کا امتیاز ہے، جس نے انہیں معاصر اردو ادب میں ایک معتبر مقام عطا کیا ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے