Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Khalid Irfan's Photo'

نیویارک، امریکہ میں مقیم ممتاز طنز و مزاح نگار پاکستانی شاعر

نیویارک، امریکہ میں مقیم ممتاز طنز و مزاح نگار پاکستانی شاعر

خالد عرفان کے اشعار

452
Favorite

باعتبار

میں نے بس اتنا ہی لکھا آئی لو یو اور پھر

اس نے آگے کر دیا تھا گال انٹرنیٹ پر

نہ ہوں پیسے تو استقبالیوں سے کچھ نہیں ہوگا

کسی شاعر کو خالی تالیوں سے کچھ نہیں ہوگا

بھوک تخلیق کا ٹیلنٹ بڑھا دیتی ہے

پیٹ خالی ہو تو ہم شعر نیا کہتے ہیں

دو چار دن سے میری سماعت بلاک تھی

تم نے غزل پڑھی تو مرا کان کھل گیا

کیسا عجیب آیا ہے اس سال کا بجٹ

مرغی کا جو بجٹ ہے وہی دال کا بجٹ

جو تم پرفیوم میں ڈبکی لگا کر روز آتی ہو

فضا تم سے معطر ہے ہوا میں کچھ نہیں رکھا

جو لغت کو توڑ مروڑ دے جو غزل کو نثر سے جوڑ دے

میں وہ بد مذاق سخن نہیں وہ جدیدیا کوئی اور ہے

الیکشن پھر وہ ذی الحج کے مہینے میں کرائیں گے

تو کیا دو دانت کے ووٹر کی پھر قربانیاں ہوں گی

غزل پڑھنے سے بالکل ایکٹر معلوم ہوتا ہے

بڑھی ہیں اس قدر زلفیں جگرؔ معلوم ہوتا ہے

اب گھر کے دریچے میں آئے گی ہوا کیسے

آگے بھی پلازا ہے پیچھے بھی پلازا ہے

گرمی جو آئی گھر کا ہوا دان کھل گیا

ساحل پہ جب گیا تو ہر انسان کھل گیا

نہ جس سے پیاس بجھ پائے وہ ''کے ایم سی'' کا نل تم ہو

حقیقت یہ ہے میری غیر مطبوعہ غزل تم ہو

غزل کہتا ہے ڈٹ کے مثنوی با لعزم کہتا ہے

دماغ اس کا الٹ جائے تو نثری نظم کہتا ہے

نمائش اس طرح شاعر نے بچوں کی لگائی ہے

کہ جیسے اس کے مجموعے کی رسم رونمائی ہے

کسی تجربے کی تلاش میں مرا عقد ثانوی ہو گیا

مری اہلیہ کو خبر نہیں مری اہلیہ کوئی اور ہے

ٹی وی کا یہ مذاق ادیبوں کے ساتھ ہے

شاعر سے دگنا رکھ دیا قوال کا بجٹ

نئی بحروں میں یہ مصرعوں کے پیچ و خم بناتا ہے

یہ غزلیں ان گنت لکھتا ہے بچے کم بناتا ہے

عبث ہے ان سے اک چڑیا کے بچے کی ولادت بھی

کہ ان فیشن زدہ گھر والیوں سے کچھ نہیں ہوگا

مرے ابا نے اس کو داد دی نازک خیالی کی

مری اماں کو کہتا ہے مسدس ہے یہ حالیؔ کی

بچھڑے تھے جب یہ لوگ مہینہ تھا جون کا

سوہنی بنا رہی تھی مہینوال کا بجٹ

بکتی ہے اب کتاب بھی کیسٹ کے ریٹ پہ

کیسے بنے گا غالبؔ و اقبالؔ کا بجٹ

Recitation

بولیے