مکتبہ شاہراہ، دہلی کا تعارف
مکتبہ شاہراہ، نئی دہلی، دہلی کے تاریخی اردو بازار میں قائم اردو کے اہم اشاعتی اداروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہ مکتبہ اردو زبان و ادب، بالخصوص ترقی پسند ادبی تحریک کے فروغ میں اپنی نمایاں خدمات کے لیے معروف رہا۔ اسی مکتبہ سے معروف شاعر ساحر لدھیانوی کی ادارت میں ادبی رسالہ "شاہراہ" شائع ہونا شروع ہوا، جس کا پہلا شمارہ جنوری 1949ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس رسالے نے اپنے عہد میں ترقی پسند فکر اور جدید ادبی رجحانات کی نمائندگی میں اہم کردار ادا کیا۔
مکتبہ شاہراہ نے عالمی ادب کے کلاسیکی شاہکاروں کو اردو زبان میں متعارف کرانے اور ترقی پسند مصنفین کی معیاری تصانیف شائع کرنے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی کتابوں میں ادب، افسانہ، ناول، تنقید، تراجم اور دیگر اہم موضوعات پر معیاری مطبوعات شامل تھیں۔ ادارے کا نصب العین یہ تھا کہ اس کی کتابیں نہ صرف قارئین کو ادبی لطف فراہم کریں بلکہ انہیں زندگی، انسانیت اور اعلیٰ انسانی اقدار سے بھی روشناس کرائیں۔
1980ء کی دہائی میں مکتبہ شاہراہ کی عمارت میں آتش زدگی کے باعث اس کے علمی و اشاعتی ذخیرے کو شدید نقصان پہنچا۔ اس نقصان کے بعد ادارہ اپنی اشاعتی سرگرمیاں بحال نہ کر سکا اور بالآخر بند ہو گیا۔ اگرچہ آج مکتبہ شاہراہ اردو بازار کا حصہ نہیں رہا، تاہم اردو اشاعت، ترقی پسند ادب اور عالمی ادب کے فروغ میں اس کی خدمات اردو کی اشاعتی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ اس ادارے کی متعدد مطبوعات کا ایک منتخب حصہ اب ریختہ کی ڈیجیٹل لائبریری پر بھی دستیاب ہے، جہاں دنیا بھر کے قارئین اور محققین اس نادر ادبی سرمایہ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔